خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 48

خلافة على منهاج النبوة ۴۸ جلد سوم وو نئے سال کے لئے جماعت احمدیہ کا پروگرام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۴ / جنوری ۱۹۳۵ء کو نئے سال کے لئے جماعت احمد یہ کا پروگرام بیان فرمایا جس میں مختلف سکیموں کا ذکر کیا۔عملی حصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔دو مجھے قتل کی دھمکیوں کے کئی خطوط ملے ہیں لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِ ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے جوشوں کو اپنے قابو میں رکھیں۔میں جانتا ہوں کہ وہ دُہرے طور پر جکڑے ہوئے ہیں۔ان پر ا یک قانون کی گرفت ہے اور ایک ہماری ، اور ہماری گرفت قانون کی گرفت سے بہت زیادہ سخت ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس ناراضگی کے بعد جو ہمارے دلوں میں پیدا کی جا رہی ہے قانون کی گرفت کسی احمدی کے دل پر رہ سکتی ہے کیونکہ اشتعال اس قدر سخت ہے کہ صبر ہاتھوں سے نکالا جا رہا ہے۔اگر احمدیت ہمیں نہ روکتی تو جس طرح سلسلہ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے میں نہیں سمجھتا ایک منٹ کے لئے بھی قانون ہم میں سے کسی کو روک سکتا لیکن بہر حال قانون چلتا ہے اور ہمارا مذہب ہمیں اس کی پابندی کرنے کا حکم دیتا ہے۔پس ایک طرف تو اس کی رُکاوٹ ہے دوسری طرف سے ہماری گرفت جماعت کے دوستوں پر ہے کہ وہ حتی الوسع اپنے جذبات کو دبائے رکھیں اور ہماری گرفت ایسی سخت ہے کہ اس کے مقابل میں قانون کی گرفت کوئی چیز نہیں۔اور ان حالات میں میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کے دل خون ہو رہے ہیں، طبیعتیں بے چین ہیں ، صحتوں پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے اور انہیں موت سے زیادہ تلخ پیالہ پینا پڑ رہا ہے مگر میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کہ میں ان کی تکالیف سے ناواقف نہیں ہوں۔جس وقت تک کہ میں دیکھوں گا کہ ہم دونوں پہلو نبھاہ سکتے ہیں میں ان کو صبر کی تلقین کرتا رہوں گا مگر جب میں دیکھوں گا کہ ہمارے صبر کی کوئی قیمت نہیں ، حاکم اسے کوئی وقعت نہیں دیتے بلکہ وہ اسے