خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 588
خلافة على منهاج النبوة ۵۸۸ جلد سوم روحانی خلافت حافظ محمد حسن صاحب بی اے ، مسٹر ظہور احمد صاحب بی اے سابق ایڈیٹر پیغام اور مسٹر عطاء اللہ صاحب سٹوڈنٹ ایم اے کلاس حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ملنے کیلئے آئے۔تعارف کے بعد ان میں سے ایک نوجوان مسٹر ظہور احمد سے حضور کی درج ذیل گفتگو ہوئی۔نوجوان : اگر کوئی کہے کہ فلاں شخص خلیفہ ہے تو کیا اس کو حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی کی طرح خلیفہ مان سکتے ہیں؟ حضرت خلیفہ المسح : ہر ایک دعوئی کی صداقت دلائل سے ثابت ہوتی ہے جو شخص خلیفہ ہونے کا مدعی ہے اس کے پاس جو دلائل ہیں ان کو دیکھیں گے۔نوجوان وہ دلائل آپ ہی بیان فرمائیں۔حضرت خلیفۃ اسیح: تو آپ صاف کیوں نہیں کہتے کہ مدعی خلافت سے آپ کی مراد مجھ سے ہی نوجوان ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حال ہی میں میں نے الفضل میں پڑھا ہے کہ آپ کی خلافت ایسی ہی ہے جیسی خلفاء اربعہ کی تھی۔حضرت خلیفہ المسح : میری خلافت کی صداقت کے وہی دلائل ہیں جو خلفاء اربعہ کی خلافت کے تھے۔آپ ان کی صداقت کی کوئی دلیل بیان کریں۔نوجوان ان کو شوری نے خلیفہ منتخب کیا تھا۔حضرت خلیفہ امسیح : شوری سے آپ کی کیا مراد ہے؟ صحابہ نے منتخب کیا تھا۔نوجوان: