خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 585

خلافة على منهاج النبوة ۵۸۵ جلد سوم کیا خلافت کے منکر فاسق نہیں؟ عن ابی هریره قال لما توفى رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابوبكر بعده وكفر من كفر من العرب قال عمر بن الخطاب لابي بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم امرتُ أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فمن قال لا اله الا الله فقد عصم منى ماله ونفسه الابحقه وحسابه على الله تعالى فقال ابوبكر والله لا قاتلن من فرّق بين الصلوة والزكواة فان الزكوة حق المال والله لو منعونى عقالا كانوا يؤدونه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ على منعه ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور ابو بکر خلیفہ ہوئے اور عرب کے جو کافر ہوئے کافر ہو گئے تو عمر نے ابو بکر سے کہا کہ تم ان لوگوں سے کیونکرلڑو گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا ہے کہ مجھے لوگوں سے لڑنے کا اُس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ لا الہ الا الله کہیں۔پس جس نے لا الہ الا للہ کہا اس نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو بچا لیا مگر کسی حق کے بدلہ۔پھر اس کا حساب اللہ پر ہے۔پس ابو بکر نے کہا خدا کی قسم ! میں اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے۔خدا کی قسم ! وہ ایک ایسے عقال ( رسی کا ٹکڑا ) کو روکیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت دیا کرتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا اس کے نہ دینے پر۔اس حدیث سے جو باتیں نکلتی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں۔اول یہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غیر مبائعین کس طرح فاسق ہو سکتے ہیں انہیں غور کرنا چاہئے کہ یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے