خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 583

خلافة على منهاج النبوة ۵۸۳ جلد سوم صاحب نے خود اُس وقت کہا تھا کہ ابھی ٹھہر جاؤ لیکن خواجہ صاحب کے زور دینے پر مانے۔اس وقت کئی آدمی زندہ ہیں جنہوں نے آپ کی بیعت نہ کی تھی پھر کیا آپ ان کی خلافت کا انکار کر دیں گے اور پھر حضرت ابو بکر کی بیعت کا بھی کیونکہ سب انصار نے بالا تفاق ان کی بیعت سے اول انکار کیا بعد میں مانا۔حضرت عمرؓ کی خلافت پر بھی اعتراض ہوا ، حضرت عثمان کی خلافت پر بھی سخت اعتراض ہوا ، حضرت علی کی خلافت پر بھی سخت جنگ ہوئی۔تو پہلے سب کی خلافت کا انکار کر دینا چاہئے کیونکہ سب کی مخالفت ہوئی۔حضرت مسیح موعود سر الخلافہ میں ہیں کہ خلیفہ کا انکار ضروری ہے اور آیت استخلاف سے یہی ثابت ہوتا ہے۔کیونکہ فرمایا ہے وَليبَة لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ل پس ان کی مخالفت ضروری ہے لکھتے کیونکہ وہ انبیاء کے قائم مقام ہوتے ہیں اور انبیاء کی نسبت آیا ہے يحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِعُونَ لے اور اگر آپ نے فورا تحریک سے بیعت کی ہے تو میرے نام ہزاروں خطوط آئے ہیں جو بیعت کے اعلان سے پہلے کے تھے جنہوں نے بغیر اطلاع کے میری بیعت کی ہے۔(۶) یہ کہنا کہ خلیفہ تو ہوتے ہیں لیکن برحق وہ ہے جس سے اختلاف نہ ہو۔یہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف ہے کیونکہ آپ نے لکھا ہے کہ خلیفہ کی مخالفت ضروری ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ہر ایک خلیفہ کی مخالفت ہوئی حتی کہ حضرت خلیفہ اول کی بھی۔ان کی لاہوریوں نے مخالفت کی۔(۷) تعجب تعجب تعجب آپ کے اس قول پر سخت تعجب ہوا کہ خلیفہ اور اختلاف ایک مادہ ہیں اس لئے وہ ساری جماعت کا امام نہیں ہو سکتا۔آدم خلیفہ تھا یا نہیں ؟ کیا اس کا ماننا سب کیلئے ضروری تھا یا نہیں ؟ خود حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو خلیفہ کہا ہے اور ان کو الہام ہوا ہے پھر کیا ان کا ماننا بھی ضروری نہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خلیفہ کہا گیا ہے۔آدم کے ذکر سے مطلب بھی یہی ہے پھر آپ کا ماننا بھی ضروری نہیں ؟ اختلاف تو ضرور ہوتا ہے لیکن اختلاف کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔اختلاف تو آنحضرت اور مسیح سے بھی کیا گیا پھر کیا ان کا ماننا ضروری نہیں ؟