خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 578
خلافة على منهاج النبوة ۵۷۸ جلد سوم فیصلہ ضرورت نہیں ہاں اگر کوئی نمائندہ ایسا ہو جو اس کے مخالف رائے رکھتا ہو تو وہ کھڑا ہو جائے۔“ اس پر کوئی دوست کھڑے نہ ہوئے ) دو گنتی میں سہولت کے لئے اس وقت آٹھ حلقے بنائے گئے ہیں۔ان آٹھ حلقوں میں کوئی نمائندہ بھی اس ریزولیوشن کے خلاف کھڑا نہیں ہوا اور اس کے بالمقابل ۳۴۱ ووٹ اس ریزولیوشن کی تائید میں ہیں۔اس طرح دوستوں نے واضح کر دیا ہے کہ انہوں نے اس وقت اپنی مرضی سے ریزولیوشن کے حق میں رائے دی ہے۔جماعتوں کے دباؤ کی وجہ سے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔سو میں اس ریزولیوشن کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں اور اسے منظور کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس کو مبارک کرے۔میں جانتا ہوں کہ اس ریزولیوشن کے بعض حصے ایسے ہیں جن پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہوگی جیسا کہ مولوی ابوالعطاء صاحب نے کہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو رسالہ الوصیۃ میں اٹھایا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں پیدا ہوا ہے اس نے ضرور مرنا ہے چاہے وہ آج مریں یا کل مریں اس لئے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ کوئی خلیفہ قیامت تک زندہ رہے یا اس کا کوئی ماننے والا قیامت تک زندگی پائے۔پس ہم نے جو کچھ کرنا ہے اس دنیا کی زندگی کے متعلق کرنا ہے۔اگلی دنیا کا خدا خود ذمہ دار ہے۔اس جہان میں خدا تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی کا اختیار دیا ہے۔اگلے جہان کا کام وہ خود کرے گا۔پس چونکہ صرف اس دنیا کا کام چلانا انسان کے اختیار میں ہے اس لئے ہماری کوشش اس حد تک ہونی چاہئے کہ ہم اس دنیا کے نظام کو اچھا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔اگلے جہان کا نظام خدا تعالیٰ نے خود اپنے اختیار میں رکھا ہے اور وہ اسے آپ ہی ٹھیک کر دے گا۔ہماری اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ وہ نظامِ خلافت حقہ کو احمدیت میں ہمیشہ کے لئے قائم رکھے اور اس نظام کے ذریعہ سے جماعت ہمیشہ ہمیش منظم صورت میں اپنے مال و جان کی قربانی اسلام اور احمدیت کے لئے کرتی رہے اور اس طرح خدا تعالیٰ ان کی مدد اور نصرت کرتا رہے کہ آہستہ آہستہ دنیا کے چپہ چپہ پر مسجدیں بن جائیں اور دنیا کے چپہ چپہ پر مبلغ ہو جائیں اور وہ دن آجائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ دنیا