خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 577

خلافة على منهاج النبوة ۵۷۷ جلد سوم قانون جاری رہے گا سوائے اس کے کہ خلیفہ وقت کی منظوری سے شوری میں یہ مسئلہ پیش کیا جائے اور شوری کے مشورہ کے بعد خلیفہ وقت کوئی اور تجویز منظور کرے۔پس یہ ریزولیوشن دوبارہ بھی مزید غور کے لئے پیش ہو سکتا ہے اور آئندہ پیدا ہونے والی مشکلات کو دور کیا جاسکتا ہے۔مجھے خود اس میں بعض ایسی باتیں نظر آتی ہیں جن میں بعد میں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوگی۔مثلاً کچھ عرصہ کے بعد صحابی نہیں رہیں گے۔پھر ہمیں یہ کرنا پڑے گا کہ انتخاب کی مجلس میں تابعی لئے جائیں یا وہ لوگ لئے جائیں جنہوں نے ۱۹۱۴ ء سے پہلے بیعت کی ہے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ قانون بنانا پڑے گا کہ وہ لوگ لئے جائیں جنہوں نے ۱۹۴۰ء سے بیعت کی ہے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ قانون بنانا پڑے گا کہ وہ لوگ لئے جائیں جنہوں نے ۱۹۵۴ء سے پہلے بیعت کی ہوئی ہے۔بہر حال یہ درستیاں حالات کے بدلنے کے ساتھ ہوتی رہیں گی اور ریزولیوشن بار بار مجلس شوری کے سامنے آتا رہے گا۔سر دست یہ ریزولیوشن شرارت کے فوری سدِ باب کے لئے ہے ورنہ آئندہ زمانہ کے لحاظ سے دوبارہ ریزولیوشن ہوتے رہیں گے اور پھر دوبارہ غور کرنے کا لوگوں کو موقع ملتا رہے گا۔اس کے بعد میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی رائے دیں۔جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور اسلام سے محبت رکھتے ہوئے یہ رائے رکھتے ہوں کہ اس ریزولیوشن کو پاس کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔جماعتوں کی طرف سے جو پابندی عائد کی گئی تھی اور نمائندگان سے وعدے لئے گئے تھے اُن کو میں نے ختم کر دیا ہے۔اب صرف اس وعدہ کو پورا کرو جو تمہارا خدا تعالیٰ کے ساتھ تھا۔“ (حضور کے اس ارشاد پر تمام نمائندگان کھڑے ہو گئے ) رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا: ۳۴۱ دوستوں کی رائے ہے کہ اس ریزولیوشن کو منظور کر لیا جائے مگر میں چاہتا ہوں کہ اگر کوئی نمائندہ اس تجویز کے مخالف ہو اور اس کی رائے یہ ہو کہ اس ریزولیوشن کو منظور نہ کیا جائے تو وہ بھی کھڑا ہو جائے لیکن یہ یادر ر ہے کہ جن دوستوں نے اس ریزولیوشن کے موافق رائے دی ہے ان کو دوبارہ کھڑا ہونے کی