خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 576

خلافة على منهاج النبوة ۵۷۶ جلد سوم ریزولیوشن جماعت احمدیہ کی خلافت کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے ذریعہ سے آئندہ فتنوں کا سد باب ہوتا ہے تو وہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے ووٹ دیں نہ کہ اپنی جماعت کو خوش کرنے کے لئے اور اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اس ریزولیوشن سے شرارت بڑھتی ہے اور فتنہ کا دروازہ کھلتا ہے تو وہ ووٹ نہ دے۔ہمیں اس کے ووٹ کی ضرورت نہیں اور نہ خدا تعالیٰ کو اس کے ووٹ کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ نے جب مجھے خلیفہ بنایا تھا اُس وقت اس قسم کا کوئی قانون نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے فتنہ پردازوں کی کوششوں کو نا کام کر دیا۔پس ہم خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں۔جو شخص ووٹ دے وہ اس بات کو سمجھ کر دے کہ اس ریزولیوشن کی وجہ سے جماعت میں شرارت کا سدِ باب ہوتا ہے لیکن اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس ریز ولیوشن سے شرارت کا سدِ باب نہیں ہوتا بلکہ اس سے شرارت کا دروازہ کھلتا ہے تو وہ ووٹ نہ دے۔آگے اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔خدا تعالیٰ جس طرح چاہے گا اُس کے ساتھ برتاؤ کرے گا۔وہ اپنی جماعت سے نہ ڈرے۔کراچی کا نمائندہ کراچی جماعت سے نہ ڈرے، لاہور کا نمائندہ لاہور کی جماعت سے نہ ڈرے، سرگودھا کا نمائندہ سرگودھا کی جماعت سے نہ ڈرے، وہ ووٹ دے تو خدا تعالیٰ سے ڈر کر دے اور پھر اس کے بعد ہمارا اور اس کا جو معاملہ ہے وہ خدا تعالیٰ خود طے کرے گا۔ہمیں اس کے ووٹ کی ضرورت نہیں۔ہمیں صرف اُس شخص کے ووٹ کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والا ہے، اسلام سے محبت رکھنے والا ہے اور خلافت سے محبت رکھنے والا ہے۔پس اگر وہ خدا تعالی ، اسلام اور خلافت کی خاطر ووٹ دیتا ہے تو دے اور اگر وہ اپنی جماعت کی خاطر ووٹ دیتا ہے تو ہمیں اس کے ووٹ کی ضرورت نہیں۔یہ تحریک کرنے کے بعد میں جماعت کے دوستوں کی رائے اس بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں مگر میں یہ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس ریزولیوشن کے بعض حصے ایسے ہیں جن پر آئندہ زمانوں میں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہو گی لیکن بہر حال جب تک کوئی دوسرا ریزولیوشن پاس نہ ہوگا اُس وقت تک یہ ریزولیوشن قائم رہے گا جیسا کہ خود اس ریزولیوشن میں بھی یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب کے لئے یہی