خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 575

خلافة على منهاج النبوة ۵۷۵ جلد سوم ہیں اور وہ سب اُن کو عادتا ماموں“ کہتے ہیں۔بہر حال میاں عبداللہ صاحب حجام کی گواہی سے پتہ لگ گیا کہ یہ خط فی الواقع عبد المنان کا ہے کیونکہ اُس نے اُسی جگہ جہاں سے یہ خط ملا ہے اور اُسی دن جس دن خط ملا ربوہ میں انہیں دیکھا تھا۔اس کے بعد ریزولیوشن کے متعلق ووٹ لینے سے پہلے میں یہ بات کہنی چاہتا ہوں کہ اس ریزولیوشن کے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے۔بعض جماعتوں نے اپنے نمائندوں سے قسمیں لی ہیں کہ وہ شوریٰ میں اس ریزولیوشن کی تائید کریں اور اس کے خلاف ووٹ نہ دیں۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ ہم نے تو اپنے ایمان کی بناء پر اور یہ بتانے کے لئے کہ ہمیں خلافت کے ساتھ وابستگی ہے اور ہم خلافت احمدیہ کو کسی صورت میں بھی تباہ نہیں ہونے دیں گے اس ریزولیوشن کی تائید کرنی تھی لیکن ہوا یہ کہ جماعتوں نے ہم سے اسی بات کے متعلق حلف لی ہے کہ ہم ضرور اس ریزولیوشن کی تائید کریں اس طرح جو بات ہم نے اپنے ایمان کے ثابت کرنے کے لئے کرنی تھی وہ حلف کے ذریعہ سے کروائی جائے گی اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس شخص میں ایمان تو کوئی نہیں صرف جماعت سے وعدہ کی بناء پر یہ ایسا کر رہا ہے۔اس طرح گویا ہمارے ثواب کا راستہ بند ہوتا ہے اور ہم اپنے اخلاص کا اظہار نہیں کر سکتے۔ان کی یہ بات چونکہ معقول ہے اس لئے جو دوست باہر سے جماعت کے نمائندہ بن کے آئے ہیں اور ان سے جماعتوں نے اس بات کے لئے حلف لیا ہے کہ وہ ضرور اس ریزولیوشن کی تائید کریں میں انہیں اس حلف سے آزاد کرتا ہوں۔خلافت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے قائم کرنا ہے۔اگر کوئی شخص اپنے ایمان میں کمزور ہے اور وہ کوئی ایسا راستہ کھولتا ہے جس کی وجہ سے خلافت احمد یہ خطرہ میں پڑ جاتی ہے یا دشمنوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے تو اس کے ووٹ کی نہ خلافت احمد یہ کو ضرورت ہے اور نہ خدا کو ضرورت ہے۔یہاں جماعتیں کچھ نہیں کرسکتیں ، اگلے جہان میں خدا تعالیٰ خود اس کو سیدھا کر سکتا ہے۔اس لئے مجھے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسے نمائندگان کو تائید کا پابند کرنے کی مجھے ضرورت نہیں۔وہ ووٹ دیں تو اپنے ایمان کی بناء پر دیں۔یہ سمجھ کر نہ دیں کہ وہ کسی جماعت کے حلف کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں بلکہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ