خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 567

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم خلیفہ ایسا ہو کہ اس کی ذاتی آمدنی اتنی قلیل ہو کہ اس کام کا چلانا اس کے لئے دوبھر ہو تو ایک سال تک اس مد کے جاری رہنے سے سنت پڑ گئی ہے اور اگر آئندہ خلفاء کے لئے اس بارہ میں کوئی عار ہو سکتی تھی تو وہ ٹوٹ گئی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کم سے کم میرے لئے اس کا لینا بہت گراں گزرتا ہے اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ اس مد کو نکال دیا جائے۔صرف سلسلہ کے ایسے لوگوں کی امداد کے لئے جو پرانے خادم ہیں کچھ رقم ضرور ہونی چاہئے کیونکہ ایسے مواقع پیش آ جاتے ہیں جب ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی دلجوئی کے لئے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کچھ مدد کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس غرض کے لئے صرف تین ہزار کی رقم اس سال کے لئے رہنے دی جائے۔باقی موٹر کے متعلق فنانس کمیٹی کے اصرار پر پچھلے سال جو فیصلہ کیا گیا تھا بعد میں غور کرنے پر میں نے سمجھا کہ وہ غلط طریق ہے۔در حقیقت ہونا یہ چاہئے کہ موٹر جب خریدا جائے تو اس کے لئے بجٹ میں گنجائش رکھی جائے اور جب پرانا موٹر بیچا جائے تو اس کی قیمت آمد میں شمار کی جائے۔یہ جو فیصلہ کیا گیا تھا کہ موٹر کی خرید کے لئے قرضہ لے لیا جائے اور ہر سال تین ہزار روپیہ اس قرض میں واپس کیا جائے بعد میں میں نے سمجھا کہ یہ طریق درست نہیں۔گزشتہ سال کے بجٹ میں سے صرف تین ہزار روپیہ موٹر کی خرید کے لئے لیا گیا تھا اور باقی روپیہ قرض لے لیا گیا تھا۔موٹر کے متعلق جیسا کہ چوہدری عبد اللہ خاں صاحب نے کہا تھا یہ ضروری تھا کہ ایسا موٹر خریدا جاتا جو زیادہ محفوظ ہوتا۔ان کا اندازہ بائیس ہزار روپیہ کا تھا مگر ہم نے سترہ ہزار میں موٹر خریدا۔تین ہزار موٹر کی مد میں سے نکال کر دیا گیا۔چھ ہزار بجٹ میں خرید موٹر کی قسط کے طور پر موجود تھا اور آٹھ ہزار امانت سے قرض لے کر ادا کر دیا گیا۔میری تجویز یہ ہے کہ موٹر کی خرید کے لئے جو رقم قرض لے کر خرچ کی گئی ہے اس کو موجودہ بجٹ سے ادا کر دیا جائے۔آئندہ جب تک یہ موٹر رہے رہے جب نیا موٹر خریدنے کی ضرورت محسوس ہو تو اسے بیچ کر جو روپیہ حاصل ہو وہ آمد میں ڈال دیا۔جائے اور جتنے روپیہ کی مزید ضرورت محسوس ہو اتنا روپیہ نئے موٹر کے لئے بجٹ میں رکھا جائے۔باقی موٹر کے جو ماہوار اخراجات ہیں مثلاً ڈرائیور کی تنخواہ ہے ، مرمت ہے، پٹرول ہے، ٹیکس ہے ، ان چیزوں کا بجٹ مناسب طور پر سب کمیٹی تجویز کر سکتی ہے مگر بہر حال یہ بجٹ