خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 552

خلافة على منهاج النبوة ۵۵۲ جلد سوم گئی ہے جبکہ اس پر عمل نہ کیا جائے۔میں نے تعاون نہ کرنے کے متعلق شکایت کی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدانخواستہ جماعت میں اخلاص نہیں۔اخلاص ہے مگر جب تک جماعت کے لوگ اس نقطہ کو نہ سمجھیں گے کہ ان کا تعلق مجھ سے شاگرد کا ہے اور وہ دنیا کے اُستاد ہیں اُس وقت تک ترقی نہ کر سکیں گے اور اگر وہ اس نکتہ کو سمجھ لیں گے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز ترقی کرتے جائیں گے“۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء صفحه ۱۶ تا ۲۱) صدر انجمن سے خطاب پھر میں صدر انجمن کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو خلیفہ کا ہاتھ سمجھے، پورا پورا تعاون کرے۔ایسے لوگوں کو سلسلہ کے کام پر لگایا جائے جو خلیفہ کا پورا ادب اور احترام کرنے والے ہوں ، تعاون کرنے والے ہوں اور جو ایسا نہ ہو اُس کی اصلاح کی جائے اور اگر اصلاح نہ ہو تو انہیں نکال دیا جائے۔اسی طرح جو کارکن ہیں انہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ہتھیار ہیں ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ، جب خلافت قائم ہو تو سارے وجود اس میں مدغم ہو جاتے ہیں کیونکہ خلیفہ دماغ ہوتا ہے اور تمام جوارح کا فرض ہوتا ہے کہ دماغ کے تابع چلیں اور اگر کوئی شخص نہیں چل سکتا تو وہ کام چھوڑ دے اور تفرقہ یاستی سے اس سکیم کو نقصان نہ پہنچائے جو جاری کی گئی ہے۔“ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء صفحه ۱۴۶، ۱۴۷)