خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 545

خلافة على منهاج النبوة ۵۴۵ جلد سوم بات کرتے وقت مخاطب خلیفہ ہونا چاہئے دوست جب کوئی بات پیش کرنا چاہیں تو آپس میں خطاب نہ کریں۔یہ بات دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے ناجائز ہے۔اس مجلس مشاورت کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ آپ صاحبان سے مشورہ لے رہا ہے اس لئے بات کرتے وقت مخاطب خلیفہ ہی ہونا چاہئے۔یہ معمولی بات نہیں اس کی وجہ سے انسان کئی قسم کی ٹھوکروں سے بچ جاتا ہے۔جب انسان کسی کو مد مقابل سمجھ کر کوئی بات کرتا ہے تو اُسے غصہ آ جاتا ہے لیکن جب مخاطب خلیفہ ہوگا تو پھر غصہ نہیں آئے گا۔پس احباب کو یہ بات ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ ایسے مواقع پر خلیفہ کو مخاطب کر کے بات کی جائے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ بات کرتے وقت خلیفہ کا لفظ بولا جائے بلکہ یہ ہے کہ گفتگو کا رُخ اُس کی طرف ہو۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء صفحه ۱۳،۱۲)