خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 540
خلافة على منهاج النبوة ۵۴۰ جلد سوم منصب خلافت کے خلاف تجویز یہ تجویز منصب خلافت کے بالکل خلاف ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں اس قسم کی باتوں کا علم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں یہ خیال آیا ور نہ کمیشن کے پریذیڈنٹ صاحب اور سرے ممبر صاحب نے جس بشاشت سے اپنی رپورٹ میں میری جرح سنی ہے اس سے میں خیال بھی نہیں کرسکتا کہ انہوں نے منصب خلافت کو نقصان پہنچانے کے لئے یہ تجویز کی ہے۔چونکہ یہ ایک غلط خیال تھا اور آئندہ کے لئے نقصان رساں ہوسکتا تھا جو نا دانستہ طور پر پیش کیا گیا اس لئے میں نے اس کی اصلاح کر دی ہے لیکن گو کمیشن کے ممبروں کے متعلق میں سمجھتا ہوں ان سے نادانستہ غلطی ہوئی ہے مگر ممکن ہے کسی نے ان کے دل میں یہ خیال پیدا کیا ہو اور کوئی اور ہو جو دیدہ و دانستہ یہ خیال رکھتا ہو اس لئے میں واضح کر دینا چاہتا ہوں اور کہتا ہوں لکھنے والے جلد لکھ کر اسے شائع کر دیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا گواہ ہے ہم ایسے لوگوں سے تعاون کر کے کام نہیں کر سکتے۔ہم نے اس قسم کے خیالات رکھنے والے ان لوگوں سے اختلاف کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہے، آپ کے پاس بیٹھے ، آپ کی باتیں سنیں۔ہم اپنے جسم کے ٹکڑے الگ کر دینا پسند کر لیتے لیکن ان کی علیحدگی پسند نہ کرتے مگر ہم نے انہیں چھوڑ دیا اور اس لئے چھوڑ دیا کہ خلافت جو برکت اور نعمت کے طور پر خدا تعالیٰ نے نازل کی وہ اس کے خلاف ہو گئے اور اسے مٹانا چاہتے تھے۔خلافت خدا تعالیٰ کی ایک برکت ہے اور یہ اُس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک جماعت اس کے قابل رہتی ہے لیکن جب جماعت اس کی اہل نہیں رہتی تو یہ مٹ جاتی ہے۔ہماری جماعت بھی جب تک اس کے قابل رہے گی اس میں یہ برکت قائم رہے گی۔اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ مجلس شوریٰ جماعت کی نمائندہ ہے اور اس کی نمائندہ مجلس معتمدین ہو تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ ہم یہ خیال سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتے اور ہم اس کے مقابلہ میں ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن خلافت کو نقصان پہنچنے دینے کے لئے تیار نہیں۔اللہ تعالیٰ گواہ ہے میں صاف صاف کہہ رہا ہوں ایسے لوگ ہم سے جس قدر جلدی ہو سکے الگ ہو جائیں اور اگر وہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں تو منافق ہیں اور دھوکا دے کر رہتے ہیں۔اگر سارے کے سارے