خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 532
خلافة على منهاج النبوة ۵۳۲ جلد سوم رسول اور خلفاء کی مجلس کے آداب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھنے اور زنگ کا کیا تعلق ہے۔موقع پر یا اُس موقع پر جب خلفاء بیٹھے ہوں کئی باتیں ایسی پیدا ہوسکتی ہیں کہ لوگوں کے دلوں پر زنگ لگا دیں۔قرآن کریم میں حکم ہے کہ ایسی آواز سے نہ بولو کہ رسول سے سوعاد بی ہو اور وہ بات جو رسول کے لئے ہو خلفا ء بھی اس کے حصہ دار ہیں۔اب اگر کوئی کسی اور مجلس میں بے جاز ور اور تندی سے بولتا ہے تو اس کے متعلق کہیں گے بے ادب ہے۔لیکن اگر رسول کریم ﷺ یا خلیفہ کی مجلس میں اس طرح کلام کرتا ہے تو نہ صرف آداب مجلس کے خلاف کرتا ہے بلکہ گناہ کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔پس احباب کو اس بات کی عادت ڈالنی چاہئے کہ اس مجلس مشاورت میں زیادہ وقار اور خشیت اللہ سے بات کریں مگر دیکھا گیا ہے بعض لوگوں نے یہ مدنظر نہیں رکھا کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں اور کئی نے کہا ہے کہ فلاں فیصلہ میں ترمیم کی ضرورت ہے۔یہ تو دنیوی حکومتوں میں بھی ہوتا ہے کہ جو فیصلہ پریذیڈنٹ کر دے پھر اس کے خلاف نہیں کہا جاتا حالانکہ ان لوگوں کو پریذیڈنٹ سے کوئی اخلاص نہیں ہوتا ، کوئی مذہبی تعلق نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات دل میں اُسے پاجی کہہ رہے ہوتے ہیں مگر اس کے فیصلہ کا لحاظ رکھتے ہیں۔ہماری جماعت کے لوگ اخلاص رکھتے ہیں مگر آداب مجلس سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کی باتیں ان سے سرزد ہو جاتی ہیں۔پچھلی دفعہ کی مجلس مشاورت میں ایسا نہیں ہوا مگر اب کے محسوس کیا گیا ہے کہ بعض نے مجھے بھی ناظروں میں سے ایک ناظر سمجھا ہے حالانکہ خلیفہ کی پارٹی کا نہیں ہوتا بلکہ سب کا ہوتا ہے اور سب سے اس کا یکساں تعلق ہوتا ہے۔اسے کسی محکمہ سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ سب سے اور سب افراد سے تعلق ہوتا ہے اس لئے ان باتوں میں شریعت کے آداب کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عورتوں میں وعظ کا سلسلہ شروع کیا مگر ان کی مجلس میں شور ہوا تو آپ نے فرمایا اب ہم وعظ نہیں کریں گے کیونکہ عورتوں نے ادب ملحوظ نہیں رکھا۔پس خلافت کے آداب اور مجلس کے آداب مد نظر رکھنے چاہئیں“۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۱۳۶، ۱۳۷)