خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 533

خلافة على منهاج النبوة ۵۳۳ جلد سوم منصب خلافت کا احترام اب کمیشن کی سفارشات میں سے صرف ایک بات باقی رہ گئی ہے میں اسے بغیر توجہ کئے چھوڑ دیتا مگر خلافت کے مقام کے احترام نے مجھے اجازت نہ دی کہ میں اسے یونہی چھوڑ دوں۔پہلے تو مجھے خیال آیا یہ پہلا کمیشن ہے جس نے کچھ کام کیا ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے اس کی سفارشات کو ر ڈ نہ کروں۔مگر پھر بھی میں نے سمجھا ذمہ داری کے لحاظ سے میری خاموشی نقصان رساں ہوگی اور میں نے یہی سمجھا کہ کمیشن کے ممبر لائق اور تعلیم یافتہ اصحاب ہیں وہ اپنی کسی رائے پر جرح بخوشی برداشت کریں گے اور جب انہوں نے میری بیعت کی ہوئی ہے تو گویا اپنا سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے۔گو مجھے معلوم ہوا ہے ایک ممبر نے جرح کو بہت بری طرح محسوس کیا ہے جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔بہر حال یہ ایسا سوال تھا جسے میں نظر انداز نہیں کر سکتا تھا اور اگر میں نظر انداز کرتا تو خدا تعالیٰ کے حضور مجرم ٹھہرتا۔وہ سوال یہ ہے کہ کمیشن نے دانستہ نہیں بلکہ نا دانستہ کیونکہ جب انہوں نے بیعت کی اور مجھے خلیفہ تسلیم کر کے میری بیعت میں داخل ہوئے تو پھر خلافت کے منصب کا احترام کرنا ان کا فرض ہے ، بعض باتیں ایسی لکھی ہیں کہ جو کام ان کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس سے باہر ہیں حتی کہ وہ خود منصب خلافت پر حملہ کرتی ہیں۔اس وجہ سے میں نے سمجھا اگر آج میں ان پر خاموش رہتا ہوں خواہ کسی وجہ سے تو کل کہا جائے گا خلیفہ دوم نے تسلیم کر لیا تھا کہ خلافت کا یہی منصب ہے۔منصب خلافت میں اس بات کی تفصیل میں پڑنے سے قبل بتانا چاہتا ہوں کہ وہ خلافت کا منصب جس کے لئے ہم نے یہ ذمہ داری برداشت کی تھی