خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 526
خلافة على منهاج النبوة ۵۲۶ جلد سوم کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور روحانی طور پر اُن کا بیان کرنا مناسب بھی نہیں ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ قرض لینا پڑا ہے مگر میری جائداد ہے اس سے قرض ادا کیا جا سکتا ہے لیکن دوستوں نے کہا یہ طریق ہمیشہ کے لئے نہیں چل سکتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت تو اس بارے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔حضرت خلیفہ اول کے وقت ہوسکتا تھا مگر نہ کیا گیا۔میرے وقت میں بھی ہو سکتا ہے اگر اب بھی کچھ نہ کیا گیا اور تیسرے خلیفہ کے وقت یہ سوال اٹھایا گیا تو اُس کی وجہ سے اُس خلیفہ کو حقیر سمجھا جائے گا اور اس سوال کو بدعت قرار دیا جائے گا۔پہلے بھی بعض لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ میں اپنا گزارہ لوں مگر یہ میرے نزدیک مناسب نہ تھا مگر اب جس طرز پر انہوں نے بات پیش کی ہے بات معقول معلوم ہوتی ہے اس لئے پہلا امر اس دفعہ یہ پیش ہے کہ خلیفہ کے اخراجات کے لئے رقم مقرر ہونی چاہئے۔میں خود کچھ نہیں لیتا سوائے اس کے کہ قرضہ کے طور پر کچھ رقم لوں اور کوشش کروں کہ خود ادا کر دوں۔اور اگر خود ادا نہ کر سکوں تو میں نے کہا ہوا ہے میری جو جدی جائداد ہے اس سے جماعت وصول کر سکتی ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷، صفحہ ۸،۷ ) دو مجھے بعض لوگوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس وقت تک خلفاء کا جو طریق گزارہ کے متعلق رہا ہے وہ آئندہ خلفاء کے لئے تکلیف کا موجب ہوگا اور اُن کو اپنے گذارہ کے متعلق کوئی تحریک کرنی بھی مشکل ہو جائے گی اس لئے گو آپ خود گزارہ نہ لیں لیکن اس سوال کو پیش کر دیں تا کہ آئندہ اس سوال کا اٹھنا کسی خلیفہ کی ہتک نہ سمجھا جائے“۔میں طبعا اس سوال کے اٹھانے سے متنفر ہوں اور جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا اور اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے گا اس کے بغیر ہی گزارہ کرنے کی کوشش کروں گا لیکن مذکورہ بالا امر میں مجھے بھی بہت حد تک سچائی نظر آتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اگر آج میری زندگی میں اِس امر کا فیصلہ نہ ہوا تو بعد میں آنے والوں کو اس کی وجہ سے تکلیف ہوگی۔میں نے دیکھا ہے کہ عام طور پر لوگوں میں احساس ہے کہ خلیفہ کو جو ہدایا ملتے ہیں وہ غالبا اس کے گزارہ کے لئے کافی ہوتے ہیں۔میرا اپنا تجربہ یہ ہے کہ اوسطاً ما ہوا را ایسے اخراجات ۱۵۰ سے ۲۵۰ روپیہ