خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 525

خلافة على منهاج النبوة ۵۲۵ جلد سوم خلیفہ کے گزارہ کا سوال اس وقت جو تجاویز پیش ہیں ان میں سب سے پہلی تجویز میری طرف سے ہے جو بعض دوستوں کی تحریک سے کی گئی ہے۔مجھ سے پوچھا گیا کہ جب جماعت ایک خلیفہ کے ماتحت رہے گی اور امید ہے کہ یہ سلسلہ ہمیشہ رہے گا تو اس لئے خلفاء کے گزارہ کے متعلق سوچنا ضروری سوال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تو خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ ہم تمہارے متکفل ہیں اور ہم تمہیں اُسی طرح دیں گے جس طرح سلیمان کو دیتے تھے اس لئے خدا تعالیٰ لوگوں کو الہام اور وحی کے ذریعہ تحریک کرتا اور وہ آپ کے لئے ہدا یا لاتے جو نہ صرف آپ کے لئے کافی ہوتے بلکہ لنگر خانہ پر بھی خرچ ہوتے اور اگر وہ ہدا یا نہ ہوتے تو لنگر نہ چل سکتا تھا۔آپ کے بعد حضرت خلیفہ اول ہوئے وہ بھی دعویٰ رکھتے تھے اور تجربہ سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا کہ ہم تمہارے متکفل ہوں گے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے بسا اوقات ایسا ہوا کہ ایک شخص نے مجھ سے کسی رقم کا مطالبہ کیا اور خدا تعالیٰ نے اتنی ہی رقم بھیج دی۔فرماتے ایک دفعہ ایک شخص نے آکر مطالبہ کیا میں نے اسے کہا کہ بیٹھ جاؤ۔وہ بیٹھ گیا مگر میرے پاس کچھ نہ تھا۔اتنے میں ایک ہندو مریض آیا جو مٹھائی لایا۔میں نے اُسے نسخہ لکھ دیا اور وہ چلا گیا۔مٹھائی جب دیکھی گئی تو اس میں کچھ روپے بھی تھے مگر جس قد ر روپے کا مطالبہ تھا اس سے کم نکلے۔میں نے کہا پھر دیکھو۔جب دوبارہ دیکھا گیا تو اتنے ہی روپے نکل آئے جتنے روپوؤں کی ضرورت تھی۔اسی طرح میرے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اس کے فضل سے مجھے معقول رقم مل جاتی ہے جو بعض اوقات عیسائیوں سے ، ہندوؤں سے ، غیر احمدیوں سے حتی کہ ایسے لوگوں سے جنہیں بہت بڑا دشمن سمجھا جاتا ہے اُن کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے جن