خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 522

خلافة على منهاج النبوة ۵۲۲ جلد سوم نمائندوں کے انتخاب میں احتیاط احمدی جماعتوں کو نمائندوں کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور بہترین آدمی کو منتخب کر کے بھیجنا چاہئے۔مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ جماعت میں مجلس مشاورت کے متعلق احساس پیدا ہو رہا ہے اور بعض جماعتیں اس کی نمائندگی کے حق پر زور دیتی اور بہترین آدمی چن کر لاتی ہیں۔مگر اکثر حصہ میں ابھی سستی اور لا پرواہی پائی جاتی ہے۔اس سال پہلے کی نسبت حاضری زیادہ ہے مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ جماعت کا احساس اس بارے میں بڑھ گیا ہے بلکہ جب میں نے دیکھا کہ بہترین آدمی منتخب ہو کر نہیں آتے تو میں نے ایسے آدمی جو سلسلہ میں پرانے ہیں یا بہترین کام کرنے والے ہیں یا ایسے نوجوان ہیں جنہیں کام کرنے کے لئے شوق دلانا مد نظر ہے انہیں چٹھی بھیج کر بلایا ہے۔یہ لوگ جماعت کے نمائندے نہیں ہیں بلکہ میرے ہی نمائندے ہیں کیونکہ جماعت نے ان کو منتخب کر کے نہیں بھیجا اور نہ خود ان کے دل میں شوق اور ولولہ پیدا ہوا ہے کہ بہترین آدمی منتخب کر کے بھیجے جائیں۔غرض ہمارے مشورے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔دوستوں کو چاہئے کہ اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر اس اہمیت سے واقف کریں۔دیکھو ان نمائندوں پر یہی ذمہ داری کتنی بڑی ہے کہ آئندہ جب خلافت کے انتخاب کا سوال در پیش ہوگا تو مجلس شوری کے ممبروں سے ہی اس کے متعلق رائے لی جائے گی۔یہ کتنا اہم اور نازک سوال ہے۔پھر کیوں با اثر لوگوں کو نمائندہ منتخب نہیں کیا جاتا۔اگر خدا تعالیٰ کی حفاظت نہ ہو تو کتنے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ایک شخص جو خود واقف نہ ہو گا کسی شخص کی لسانی یا ظاہری حالت کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ یہی خلیفہ ہو حالانکہ خلافت کے لئے جتنے اوصاف کی ضرورت ہے وہ اس قدر مختلف اور پیچ در پیچ ہیں کہ اگر اس بارے میں ذرا بھی غفلت سے کام لیا جائے تو جماعت کی تباہی