خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 523

خلافة على منهاج النبوة آسکتی ہے۔۵۲۳ جلد سوم رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۶ء صفه ۳ ، ۴) یہ بھی بحث کی گئی ہے کہ اس مجلس میں تجویز پیش کرنے سے خلیفہ پر پابندی عائد ہوگی اور اس کے جواب میں کہا گیا ہے یہ تو بطور مشورہ ہے۔میرے نزدیک یہ صحیح بات ہے کہ یہاں جو ریزولیوشن پیش ہوتا ہے مشورہ کے طور پر ہوتا ہے نہ کہ پاس قرار پاتا ہے اس لئے یہ اعتراض درست نہیں ، اس سے خلیفہ پر پابندی نہیں ہوتی۔مگر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کسی بات کے گردو پیش کے حالات اور روح کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ درخواست میں التجاء ہوتی ہے مگر اس میں مخفی فیصلہ بھی ہوتا ہے۔اس کے متعلق ہر شخص کو عموماً تجربہ ہوگا کہ بسا اوقات ایسی درخواستیں ہوتی ہیں جن کے الفاظ تو درخواست کے ہوتے ہیں مگر مخفی طور پر ان میں جبر پایا جاتا ہے کہ ہم یوں کرنے دیں گے اور یوں نہیں کرنے دیں گے۔میرے نزدیک وہ امور جو خلیفہ کی ذات سے وابستہ ہیں ان میں اس قسم کی مداخلت بھی درست نہیں ہو سکتی۔در حقیقت سلسلہ کے سب امور کا ذمہ دار خلیفہ ہے۔بعض کے متعلق یہ ہوتا ہے کہ خلیفہ خود نہیں کرتا دوسروں سے کراتا ہے اور بعض خلیفہ کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کرنا یا نہ کرنا اوروں سے تعلق نہیں رکھتا۔اس مجلس میں کسی ایسے امر کو پیش کرنا گو یہ نہیں کہلا تا کہ جبر اس میں پایا جاتا ہے لیکن اس سے یہ احتمال ضرور ہے کہ اس قسم کے ریزولیوشن سے آہستہ آہستہ اس بات کی جرات پیدا ہو کہ خلیفہ کے اعمال کی حد بندی کرنے کے لئے لوگ اُٹھ کھڑے ہوں کیونکہ یہ تجویز خلیفہ کے اعمال کے متعلق ہے ، جو اساس عمل ہے اس کے خلاف ہے۔بحث کسی کی ہتک کے طور پر نہیں کی گئی مگر اس کا نتیجہ تو یہ ہے کہ خلیفہ کے اعمال پر بحث ہو اور اگر اس طریق کو جاری رکھا گیا تو ہو سکتا ہے کہ کل یہ التجاء اور درخواست پیش ہو کہ ہم تجویز کرتے ہیں فلاں فلاں قسم کے خطوط کا جواب خلیفہ خود دیا کرے۔مطلب یہ کہ وہ امور جن کا فیصلہ صرف خلیفہ کی رائے کر سکتی ہے اور اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ مجلس مشاورت بلائے یا نہ بلائے وہی مجلس خلیفہ کے اعمال کی حد بندی کرتی ہے۔