خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 519
خلافة على منهاج النبوة ۵۱۹ جلد سوم ہر حالت میں فتنہ انگیزی سے بچو دیکھو اگر کسی کی شکایت خلیفہ کے سامنے بھی نہ سنی جائے۔اگر خدانخواستہ خلیفہ بھی ظلم میں ہمدردی کر کے کام کرنے والوں کی حمایت کرے تو بھی میں یہی کہوں گا کہ صبر کرو نہ کہ کوئی فتنہ انگیزی کی حرکت کرو۔اگر خلیفہ واقعہ میں ظالم اور ظلم کی حمایت کرنے والا ہوگا تو خدا تعالیٰ تمہارے راستہ سے اسے ہٹا دے گا کیونکہ جب خدا تعالیٰ خلیفہ مقرر کرتا ہے تو وہ خلیفہ کو ہٹا بھی سکتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی کا رکن ظالم ہے تو اسے بھی خدا تعالیٰ ہٹا دے گا۔تم خود نیک بنواور دعاؤں کے ذریعہ نہ کہ فتنہ انگیزی کے ذریعہ جو غلطی اور نقص معلوم ہو اس کی اصلاح چاہو۔اگر اس بارے میں تمہاری غلطی ہوگی تو خدا تعالیٰ تمہارے دلوں کو صاف کر دے گا اور تمہیں تباہی سے بچالے گا اور اگر تمہاری غلطی نہ ہوگی تو خدا ظالموں کی یا تو اصلاح کر دے گا یا اُنہیں ان کی جگہ سے ہٹا دے گا۔اسلامی اصول کے مطابق۔جماعت کے انتظام کے متعلق آخری آواز صورت ہے کہ جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے اور آخری اتھارٹی جسے خدا نے مقرر کیا اور جس کی آواز آخری آواز ہے وہ خلیفہ کی آواز ہے کسی انجمن ، کسی شوری یا کسی مجلس کی نہیں ہے۔یہی وہ بات ہے جس پر جماعت کے دوٹکڑے ہو گئے۔خلیفہ کا انتخاب ظاہری لحاظ سے بے شک تمہارے ہاتھوں میں ہے تم اس کے متعلق دیکھ سکتے اور غور کر سکتے ہومگر باطنی طور پر خدا کے اختیار میں ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے خلیفہ ہم قرار دیتے ہیں اور جب تک تم لوگ اپنی اصلاح کی فکر رکھو گے ان قواعد اور اصول کو نہ بھولو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہیں تم میں خدا خلیفہ مقرر کرتا رہے گا اور اسے