خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 514

خلافة على منهاج النبوة وو ۵۱۴ جلد سوم جب حضرت ابو بکر خلیفہ مقرر ہوئے تو دوسرے تیسرے دن کسب معاش کے لئے نکلے۔صحابہ نے کہا کہ اس صورت میں آپ خلافت کس طرح کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ پھر گزارہ کس طرح کروں؟ صحابہ نے مشورہ کیا اور ایک رقم اُن کے لئے مقرر کر دی ہے حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی اسی طرح ہوا کہ مشورہ سے اُن کے لئے رقم مقرر کی گئی ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد جب مال کثرت سے آئے اور چیزیں گراں ہوگئیں ادھر اہل وعیال بڑھنے لگے تو بعض صحابہ نے محسوس کیا کہ حضرت عمرؓ کا گزارہ تنگ ہے۔ایک نے دوسرے سے ذکر کیا کہ حضرت عمرؓ کا گزارہ تنگ ہے ، کچھ انتظام کرنا چاہئے۔دوسرے نے کہا وہ خود تو نہیں کہتے۔اُس نے کہا کہ وہ کبھی بھی نہیں کہیں گے۔اس لئے مشورہ ہوا اور حضرت حفصہ سے ذکر کیا کہ چونکہ حضرت عمرؓ کا گزارہ تنگ ہے اس لئے ہم نے یہ تجویز کی ہے مگر ہم اُن سے ذکر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں ، آپ ذکر کریں۔وہ گئیں اور جا کر کہا کہ بعض صحابہ آپ کے گزارہ میں وسعت کرنا چاہتے ہیں۔اس پر حضرت عمر بہت ناراض ہوئے اور کہا کیا تو مجھے فتنہ میں ڈالنا چاہتی ہے؟ کے اس سے ظاہر ہے کہ رقم گزارہ میں اضافہ کی کوشش کی گئی گو حضرت عمرؓ نے منظور نہ کیا۔تیسری قرضہ کی صورت رکھی ہے۔یہ ثابت ہے کہ جب حضرت عمر فوت ہوئے تو ۴۲ ہزار درہم قرضہ ان کے ذمہ تھا۔یہ سب صورتیں خلفاء کے طرز سے ثابت ہیں۔پس خلیفہ کو حق ہونا چاہئے کہ بیشی کا انکار کر دے۔ایسا نہ کرنے سے اس کے وقار کو نقصان پہنچتا ہے اور بدنتائج بھی ہوتے ہیں۔کچھ عرصہ کی بات ہے کہ انجمن میں کسی نے یہ سوال کیا کہ چونکہ گرانی کا وقت ہے اس لئے خلیفہ کو اڑھائی سو ماہوار دیا جائے۔اس سے انجمن میں اوروں کی تنخواہیں بھی بڑھائی گئیں۔میرے اپنے نفس کی یہ حالت ہے کہ میں اپنا گزارہ اس طرح نہیں چاہتا گونا جائز نہیں کہتا کیونکہ اُنہوں نے اسے جائز رکھا ہے جن کا میں ادب کرتا ہوں اور بزرگ سمجھتا ہوں۔تو میں یوں بھی اس رقم کو منظور کرنے سے انکار کرتا مگر یہ بھی خیال آیا کہ اگر منظور کر لوں تو یہ کہا جائے گا کہ چونکہ اوروں نے اپنی تنخواہیں بڑھائی ہیں اس لئے یہ رقم خلیفہ کو رشوت دی ہے تا کہ وہ اعتراض نہ کرے۔گو یہ بات نہ تھی کیونکہ تجویز