خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 511
خلافة على منهاج النبوة ۵۱۱ جلد سوم کے بعد وہ نصائح سناتا ہوں جو میں نے پچھلے سال بھی مجلس مشاورت کے وقت بیان کی تھیں۔میں ان کو رپورٹ سے پڑھ کر سناتا ہوں کہ مشورہ میں یادر ہیں اور مشورہ دینے والوں کا قدم جادہ اعتدال سے باہر نہ ہو۔(1) ہم لوگ یہاں کسی دنیاوی بادشاہت اور حکومت کی تلاش کے لئے جمع نہیں ہوئے نہ عہدوں کے لئے اور نہ شہرت کے لئے آئے ہیں ہم میں سے اکثر وہ ہیں جن کا آنا ان کے لئے مشکلات بھی رکھتا ہے۔مخالف ان پر جنسی اُڑاتے اور اعتراض کرتے ہیں پس ان کا یہاں آنا خدا کے لئے ہے اس لئے ضروری ہے کہ سب احباب ان نصائح پر عمل کریں۔اپنے عمل کو ضائع ہونے سے بچائیں اور دعائیں کریں۔اخلاص سے مشورہ دیں درد کے ساتھ مشورہ دیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مشورہ میں برکت ڈالے۔(۲) دعا بغیر عمل کے قبول نہیں ہوتی جب تک انسان اس کے لئے سامان نہ کرے۔اگر انسان کو خواہش ہوتی ہے تو سامان کرتا ہے اگر سامان نہیں کرتا تو دعا کرنا غلط ہے۔ہے۔یہ دھوکا ہے کہ خدا سے اس بات کی دعا مانگی جائے جس کے لئے خود کچھ تیاری نہ کی جائے اور ظاہر نہ کیا جائے کہ جس کام میں خدا سے دعا مانگتا ہے اس کا محتاج ہے۔(۳) جولوگ مشورہ کے لئے اٹھیں یہ نیت کریں کہ جو بات وہ کہتے ہیں وہ دین کے لئے مفید ہوگی یا یہ کہ جس بات کے لئے مشورہ کیا جاتا ہے کون سی بات دین کے لئے مفید ہوگی۔(۴) جو مشورہ دیں وہ آپ کا ہو کسی کی خاطر مشورہ نہ دیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس مشاورت بھی ہو اور آپ مشورہ طلب کریں تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے علم کے مطابق مشورہ دیں۔ہاں آپ کو یہ حق تھا کہ ہمارے مشورہ کو رڈ کر دیں۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھی مشورہ دیا جاسکتا ہے تو خلیفہ کی مجلس میں بدرجہ اولی دیا جا سکتا ہے۔میرے نزدیک جو بچے طور پر خلیفہ ہے اس کا فرض ہے کہ وہ مشورہ سنے اور جو بات خواہ وہ کسی کی ہو اُس کو قبول کرے۔یہ نہیں کہ وہ پہلے سے فیصلہ کرے کہ یونہی کرنا ہے بلکہ اس کی یہ حالت ہونی چاہئے کہ وہ اس ارادے سے بیٹھے کہ جو مشورہ ہوگا وہ درست ہو گا۔اگر درست ہو تو مان لے ورنہ رڈ کر دے۔جب تک