خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 510

خلافة على منهاج النبوة ۵۱۰ جلد سوم خلافت مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے ساتھ مشورہ نہ ہو۔کئی دفعہ بعض باتیں مشورہ سے ایسی معلوم ہو جاتی ہیں جو انسان کے ذہن میں نہیں ہوتیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مشورہ کیا کرتے تھے۔چنانچہ جنگ احزاب کے موقع پر جب تمام کفار مل کر مدینہ پر چڑھ آئے اور یہود بھی کفار کے ساتھ مل گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے مشورہ طلب کیا۔حضرت سلمان نے ایک مشورہ دیا کہ مدینہ کے اردگر دخندق کھودی جائے کیونکہ ایران میں یہی طریق رائج ہے لے اس سے ایک وقت تک دشمن اپنے حملے میں ناکام رہتا ہے یہ رائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آئی اس کے مطابق عمل کیا گیا اور اس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔اس مجلس میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی موجود تھے حضرت سلمان کا ان سے رتبہ اور درجہ کم تھا مگر ایک بات میں وہ اُن سے بڑھا ہوا تھا یعنی اس نے غیر ممالک کو دیکھا ہوا تھا اس لئے فن کی واقفیت تھی۔پس جو لوگ فن سے واقف ہوں اُن کی رائے سے بہت سے کام درست ہو جاتے ہیں۔ایسے اوقات میں اخلاص کام نہیں آتا بلکہ فن سے واقفیت کام دیتی ہے۔پس ضروری ہے کہ مجلس مشاورت میں ہر مذاق اور ہر ایک فن کے لوگ داخل ہوں۔علاوہ اس کے کہ لوگوں میں یہ بات داخل کر دی جائے کہ اخلاص کے ساتھ فن کی واقفیت بھی پیدا کریں اس لئے ضرورت ہے کہ مجلس مشاورت میں ماہرین فن بھی آئیں۔ان میں ایسے بھی ہوں جو اپنے دستخط بھی کرنا نہیں جانتے لیکن وہ اپنے علاقہ میں ایسا اثر اور رسوخ رکھتے ہوں کہ اپنے علاقہ میں کام کے متعلق جوش پیدا کر سکیں اور لوگوں میں جوش نہیں پھیل سکتا جب تک علاقہ کے ذی اثر لوگ اس مجلس میں داخل نہ ہوں۔لیکن چونکہ مشورہ عام ہوتا ہے اس میں داخل ہونے والے بعض بطور مشغلہ کے بھی آتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ نمائندے الگ ہوں اور دوسرے الگ۔پس جو نمائندہ ہے وہ مشورہ دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے ثابت ہے کہ آپ مجالس مشاورت میں سب کی بات نہیں مانا کرتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ اپنے امیر سے کہو کیونکہ اگر امراء اور نمائندوں کی رائے نہ لی جائے تو مشورہ کی غرض باطل ہو جاتی ہے۔مشورہ کی اہمیت بتانے