خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 509

خلافة على منهاج النبوة ۵۰۹ جلد سوم مسلمان خلیفہ ہے۔جو مسلمان اپنے آپ کو خلیفہ نہیں سمجھتا وہ مسلمان نہیں۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ دس لاکھ میں سے ایک ہے اور اس کو دس لاکھواں حصہ ادا کرنا چاہئے بلکہ وہ سمجھے کہ وہ دس لاکھ ہی کا قائم مقام ہے اور یہ کام سارا اسی کا ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ پورا کام کرے اور اس میں سے جس قدر کام کی اس میں طاقت نہیں اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرے گا اور اس سے اس کی باز پرس نہیں ہوگی۔خلافت کے قیام کی ضرورت انتظام کے لئے ہے کیونکہ تقسیم عمل نہیں ہو سکتی جب تک ایک انتظام نہ ہو۔ممکن ہے کہ سب زور دیں مگر ان کا زور ایک ہی کام پر خرچ ہورہا ہو اور باقی کام یونہی بے تو جہی کی حالت میں پڑے رہیں۔پس جب تک ایک مرکز نہ ہو اُس وقت تک تمام متفرق جماعتوں کی طاقتیں صحیح مصرف پر صرف نہیں ہوسکتیں اس لئے ضرورت ہے کہ تمام متفرق جماعت کی طاقتوں کو جمع کرنے کے لئے ایک مرکزی طاقت ہو جو سب کے کاموں کی نگران ہو اور اس سے تمام جماعتوں کا تعلق ہو اس لئے ضروری ہے کہ کوئی جماعت اپنا مرکز قائم کرے اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ خلیفہ ہو جو اپنی رائے میں آزاد ہو لیکن وہ سب سے مشورہ طلب کرے۔جو رائے اُس کو پسند آئے وہ اُس کو قبول کرے اور جو رائے اُس کو دین کے لئے اچھی نہ معلوم ہو خواہ وہ ساری جماعت کی ہو اُس کو رڈ کر دے اور اس کے مقابلہ میں جو بات اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ڈالے اور جس پر اُس کو قائم کرے وہ اُس کو پیش کرے اور لوگ اس کو قبول کر کے اس پر عمل کریں۔جن لوگوں سے خلیفہ مشورہ طلب کرے ان کا فرض ہے کہ دیانت سے صحیح مشورہ دیں اور جب مشورہ طلب کیا جائے تو خواہ کسی کے بھی خلاف ان کی رائے ہو بیان کر دیں لیکن یہ دل میں خیال نہ کریں کہ اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو یہ غلطی ہوگی۔پس خلیفہ کے یہ معنی نہیں کہ وہی اسلام کا بوجھ اٹھانے والا ہے بلکہ اس کے معنی ہیں کہ وہ تمام جماعت کو انتظام کے تحت رکھنے والا ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی انسان بھی مشورہ سے آزاد نہیں۔یہ خیال باطل ہے کہ مشورہ کی ضرورت نہیں یا یہ کہ مشورہ یونہی ہے اس کا فائدہ نہیں۔یہ بھی غلط ہے کہ مجلس مشاورت خلافت کے خلاف بغاوت ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی