خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 498

خلافة على منهاج النبوة ۴۹۸ جلد سوم آکھڑی ہو۔غور کریں کہ یہ یقین اور یہ ثبات اور دلیری حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کہاں سے حاصل ہوگئی ؟ یہ محض اس خدا نے آسمان سے نازل کی تھی جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے وقت تسلی دی تھی کہ آپ گھبرائیں نہیں آپ کے بعد ہرلمحہ خدا کے فرشتے نصرت اور فتح کو لے کر اُتریں گے یہاں تک کہ اسلام کا علم ساری دنیا پر اہرا جائے گا۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کی خلاف مرضی حضرت اسامہ بن زید کو لشکر سمیت موتہ کی طرف روانہ کر دیا۔چنانچہ چالیس دن کے بعد یہ مہم اپنا کام پورا کر کے فاتحانہ شان سے مدینہ واپس آئی اور خدا کی نصرت اور فتح کو نازل ہوتے سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔پھر اس مہم کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جھوٹے مدعیان کے فتنے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس فتنہ کی ایسی سرکوبی کی کہ اس کو کچل کر رکھ دیا اور یہ فتنہ بالکل ملیا میٹ ہو گیا۔بعد ازاں یہی حال مرتدین کا ہوا جو لوگ زکوۃ دینے کے منکر تھے اُن کی تعداد کافی تھی اور صحابہ کبار بھی ان سے لڑنے کے بارے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ جو لوگ تو حید اور رسالت کا اقرار کرتے ہیں اور صرف زکوۃ دینے سے منکر ہیں ان پر کس طرح سے تلوار اُٹھائی جاسکتی ہے۔اس موقع پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نہایت جرأت اور دلیری سے کام لیتے ہوئے فرمایا کہ خدا کی قسم ! جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اونٹ کی ایک رسی بھی زکوۃ کے طور پر دیتا تھا اگر وہ اس کے دینے سے انکار کرے گا تو آپ اس کا مقابلہ کریں گے۔آپ کے اصرار پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھی آپ کی اصابت رائے کا اعتراف کرنا پڑا اور وہ سمجھ گئے کہ اگر آج زکوۃ نہ دینے کی اجازت دیدی گئی تو آہستہ آہستہ لوگ نماز روزہ کو بھی چھوڑ بیٹھیں گے اور اسلام محض نام کا رہ جائے گا۔الغرض ایسے حالات میں حضرت ابو بکر نے منکرین زکوۃ کا مقابلہ کیا اور انجام یہی تھا کہ اس میدان میں بھی آپ کو فتح اور نصرت حاصل ہوئی اور تمام بگڑے ہوئے لوگ راہِ حق کی طرف لوٹ آئے۔حقیقت یہی ہے کہ اگر اسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے بچے اور برگزیدہ رسول نہ ہوتے تو یہ حالات