خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 37
خلافة على منهاج النبوة ۳۷ جلد سوم میاں معراج دین صاحب عمر جو آجکل قادیان میں ہی رہتے ہیں اور دوسرے میاں رجب الدین صاحب جو خواجہ کمال الدین صاحب کے خسر تھے۔مجھے یاد ہے مجلس میں بیٹھتے ہی یہ سوال کر دیا کرتے کہ حضور فلاں مسئلہ کس طرح ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مسئلہ پر تقریر شروع فرما دیتے تو جو دوست باہر سے آتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے مطالب پیش کرنے کے علاوہ مشکل مسائل دریافت کیا کریں تا کہ مجلس زیادہ سے زیادہ مفید ہو اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔میں نے بتایا ہے کہ اول تو میری عادت ہے کہ میں گفتگو شروع نہیں کر سکتا۔لیکن اگر میں کبھی نفس پر زور دے کر گفتگو شروع بھی کر دوں تو بھی مجھے کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ کسی کو کیا مشکلات درپیش ہیں۔گوایسا بھی ہوتا ہے کہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ القاء اور الہام کے ذریعہ زبان پر ایسی گفتگو جاری کر دیتا ہے کہ جو اُس وقت کی مجلس کے مطابق ہو۔مگر پھر بھی کئی خیالات ایسے ہو سکتے ہیں جن کے متعلق کوئی شخص چاہتا ہو کہ وہ مجھ سے ہدایت لے لیکن سوال نہ کرنے کی وجہ سے وہ اس سے محروم رہے۔پس باہر سے آنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس تبلیغی زمانہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے سوالات پوچھا کریں جن کے جوابات سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔مگر ایک چیز ہے جس کا خیال رکھنا چاہیے اور وہ یہ کہ بعض لوگ سوال تو کرتے ہیں مگر ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ مجھ سے کچھ سنیں بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اپنی سنائیں۔بعض مبلغین میں بھی یہ عادت پائی جاتی ہے۔جب وہ میرے پاس آتے ہیں تو وہ شروع سے آخر تک مباحثہ کی روئید ا د سنانا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں اس نے یہ اعتراض کیا میں نے یہ جواب دیا۔اس نے فلاں اعتراض کیا میں نے فلاں جواب دیا۔اور اس ذریعہ سے وہ اپنی گفتگو کو اتنا لمبالے جاتے ہیں کہ وہ ملال پیدا کرنے والا طول بن جاتا ہے اور پھر لوگوں کو بھی غصہ آتا ہے کہ یہ اپنی بات کیوں ختم نہیں کرتے۔جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مجھ سے کچھ سنیں یہ نہیں ہوتی کہ دوسروں کی سنیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کی طرف سے خلاف آداب حرکات سرزد ہو جاتی ہیں۔مثلاً یہی کہ کہتے ہیں جزاک اللہ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بس کریں اب ہم سے زیادہ باتیں نہیں سنی جاتیں۔مگر وہ بھی اپنی طبیعت کے ایسے پختہ ہوتے