خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 38
خلافة على منهاج النبوة ۳۸ جلد سوم ہیں کہ جزاک اللہ پر خوش ہو کر اور زیادہ باتیں سنانے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ یہ جَزَاكَ الله تعریف کے لئے نہیں بلکہ گفتگو بند کرانے کے لئے کہا گیا ہے۔پس یہ ایک مرض پیدا ہو رہا ہے جس کی طرف میں توجہ دلاتا ہوں لوگ میری وجہ سے یہ تو دوسرے کو نہیں کہہ سکتے کہ چُپ کرو اور میں بھی حیا کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتا نتیجہ ہوتا ہے کہ ایسے اشاروں میں انہیں بات کہی جاتی ہے جو گرے ہوئے اخلاق پر دلالت کرتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ وہ بجائے اس کے کہ اپنی گفتگو سنائیں جو وہ پوچھنا چاہتے ہوں پوچھیں۔پچھلے ایام میں میں ایک جگہ گیا وہاں بہت سے دوست میرے ملنے کے لئے جمع ہو گئے۔مگر دو گھنٹہ تک ایک شخص مجھے اپنا مباحثہ ہی سناتا رہا اور آخر رات کے ساڑھے گیارہ بجے کے قریب اُس کی گفتگو ختم ہوئی۔مگر اُس وقت اتنا وقت گزر چکا تھا کہ میں بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور دوست بھی جو میری باتیں سننے کے لئے آئے تھے چلے گئے۔وہ اس سارے عرصہ میں یہی سناتے رہے کہ اس نے یوں کہا میں نے یوں جواب دیا پھر اس نے یہ کہا میں نے یہ کہا۔حالانکہ مباحثات کی تفصیل کی مجھے ضرورت ہی نہیں ہوتی اور گو دوسروں کو ضرورت ہو بھی مگر وہ محبت اور اخلاص کی وجہ سے میری باتیں سننے کے مشتاق ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں سے باتیں سننے کے لئے کافی اوقات ہیں۔پس گفتگو ایسے رنگ میں ہونی چاہئے کہ دوستوں کا اصل مقصد یعنی یہ کہ وہ میری باتیں سننے کے لئے آتے ہیں کسی طرح فوت نہ ہو جائے اور وقت ضائع نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو ایسا بنایا ہے کہ لمبی چوڑی فلسفیانہ تقریریں اُس پر وہ اثر پیدا نہیں کرتیں جو اخلاص سے کہی ہوئی ایک چھوٹی سی بات کر جاتی ہے۔گھروں میں روزانہ دیکھا جاتا ہے بعض اوقات بچہ ضد میں آکر ایک بات نہیں مانتا ، ہزاروں دلائل دو وہ کچھ نہیں سنتا لیکن جب ماں کہے بیٹا یوں کرنا اچھا نہیں ہوتا تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔اس پر غیر کی زبردست دلیلیں اثر نہیں کرتیں مگر ماں کا یہ فقرہ کہ ایسا کرنا اچھا نہیں ہوتا فوراً اثر کر جاتا ہے۔اسی طرح لوگوں کے سامنے اخلاص ہوتا ہے وہ دوسروں کی فلسفیانہ تقریریں سننا پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے امام کے منہ سے چند سادہ کلمات سننا چاہتے ہیں اور یہ محبت کے کرشمے ہیں۔جب تک اور جس سے اخلاص اور محبت ہو گی اُس