خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 492

خلافة على منهاج النبوة ۴۹۲ جلد سوم خلافة على منهاج النبوة كا وعده سورۃ الکفرون کی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔چنانچہ مسلمانوں کے ساتھ جو یہ وعدہ کیا گیا تھا اس کا ذکر واضح الفاظ میں سورۃ نور میں ( جو مدینہ میں نازل ہوئی ) کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قبْراهِمْ ، ويمكنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ان تضى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا ، يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الفسقون۔کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں اور نیک اعمال بجا لانے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور ملک میں بادشاہ بنا دے گا۔وہ ایسی شان اور عظمت رکھنے والے بادشاہ ہوں گے جیسے پہلی منعم علیہ قوموں میں ہوئے ہیں۔ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اسلام کے اعلیٰ اور افضل احکام جاری کر دے گا اور اس وقت جو مسلمانوں کی خوف کی حالت ہے یا آئندہ جو بھی خوف کی حالت پیدا ہوگی اس کو امن میں بدل دے گا۔یہ بادشاہ میری عبادت کو دنیا میں قائم کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔پس ان انعامات کے بعد جو میری نعمتوں کی ناشکری کرے گا اور صحیح لق حکومت کو چھوڑ کر غلط راستہ اختیار کرے گا وہ فاسق ہوگا۔مذکورہ بالا آیات میں مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ لِيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ یعنی وہ ان کو ملک میں خلفاء بنادے گا۔خلفاء خلیفہ کی جمع ہے اور خلیفہ کے معنی ہیں ا مَنْ يَخْلُفُ غَيْرَهُ وَيَقُومُ مَقَامَهُ " یعنی جو کسی کے قائم مقام ہو کر وہی کام کرے جو اصل وجود کام کر رہا ہوتا ہے۔