خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 491

خلافة على منهاج النبوة ۴۹۱ جلد سوم ہے اور قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ ہر حملہ جو اس حکومت پر ہوگا ہم پر ہوگا اور ہر دشمن جو اس پر چڑھائی کرے گا وہ ہمارا دشمن ہوگا اور ہم خود اُس کا مقابلہ کریں گے۔ایسی حکومت کوئی انسان بنا ہی کس طرح سکتا ہے۔جس چیز کا میں مخالف ہوں وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم آئین اسلام جاری کریں گے کیونکہ آئین اسلام خلافت کے بغیر نا فذ نہیں ہوسکتا۔آئین اسلام چند اصولوں کا نام ہے جو خلافت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں لیکن مسلمان اس وقت خلافت کے قائل نہیں۔یہ خلافت جب بھی قائم ہوگی روحانی ہوگی جیسے کہ میں اپنے آپ کو خلیفہ کہتا ہوں۔یہ ظاہر ہے کہ میری خلافت سے دنیوی خلافت مراد نہیں۔پھر میں یہ نہیں کہتا کہ میں آپ ہی خلیفہ بن گیا ہوں بلکہ میں ساتھ ہی یہ دعوی کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے۔اب یہ واضح بات ہے کہ اگر میں اپنے اس دعوی میں جھوٹا ہوں تو خدا خود مجھے سزا دے گا اور اگر سچا ہوں تو لوگوں کی مخالفت میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔بہر حال نظام خلافت کے بغیر حکومت الہیہ دنیا میں ہرگز قائم نہیں ہو سکتی لیکن اگر یہ حکومت قائم ہو جائے تو پھر اس سے بہتر حکومت دنیا میں اور کوئی نہیں ہوسکتی۔( تفسیر کبیر جلد۰ اصفحه ۱۶۶)