خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 490
خلافة على منهاج النبوة ۴۹۰ جلد سوم نظامِ خلافت کے بغیر حکومت الہیہ دنیا میں قائم نہیں ہوسکتی سورة الماعون آیت ۲ اريت الذي يُكَذِّب بالدین کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔حکومت الہیہ تو محض خدا تعالیٰ کی قائم کردہ ہوتی ہے بندے کی قائم کردہ نہیں ہوتی آخر کونسا انسان ہے جو اس قسم کی حکومت کو نافذ کر سکتا ہے سوائے اس کے جو یہ کہے کہ میں خدا تعالی کی طرف سے آیا ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ دنیا میں حکومت الہیہ کو قائم کروں۔پھر حکومت الہیہ کسی ایک مُلک پر نہیں ہو سکتی حکومت الہیہ جب بھی آئے گی ملکی حد بندی سے آزاد ہو کر آئے گی۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اس بات کو بار بار پیش کیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت آئینِ اسلام جاری نہیں ہو سکتا لیکن میں نے جب بھی کسی لیکچر میں یہ بات بیان کی ہے فوراً اخبارات میں شور مچ جاتا ہے کہ ایک مذہبی آدمی ہو کر شریعت کی مخالفت کی جارہی ہے حالانکہ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ شریعت اسلام پاکستان میں جاری نہیں ہوسکتی۔میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اِس وقت آئین اسلام جاری نہیں کیا جا سکتا اور شریعت اسلام اور آئین اسلام میں فرق ہے۔آئین اسلام خلافت سے تعلق رکھتا ہے اور خلافت کے معنی یہ ہیں کہ سارے مسلمان اس کے تابع ہو جائیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا عرب پاکستان کے تابع ہو جائے گا ؟ کیا فلسطین پاکستان کے تابع ہو جائے گا ؟ کیا انڈونیشیا پاکستان کے تابع ہو جائے گا ؟ کیا اور اسلامی ممالک پاکستان کے تابع ہو جائیں گے؟ وہ ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اس وقت مسلمانوں میں کوئی خلافت نہیں اور چونکہ وہ پاکستان کے تابع نہیں ہو سکتے اس لئے پاکستان میں آئین اسلام بھی جاری نہیں ہوسکتا۔ہاں شریعت اسلام ہر وقت جاری ہو سکتی ہے۔حکومت الہیہ دراصل عرش پر ہے دنیا میں صرف اس کا ظل قائم ہوتا