خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 36

خلافة على منهاج النبوة ۳۶ جلد سوم امام کے۔ہر شخص مجلس میں آگے آنا چاہتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میرے ذرا سا آگے بڑھنے سے کیا نقصان ہو جائیگا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حلقہ نہایت ہی تنگ ہو جاتا ہے اور صحت پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔مگر علاوہ اس کے کہ صحت کے لئے یہ مفید بات نہیں اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ زیادہ آدمی اس حلقہ سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔مجھے ایسے حلقہ میں سخت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ مجھے گلے اور آنکھوں کی ہمیشہ تکلیف رہتی ہے۔پھر یہ حلقہ تو بڑی بات ہے میری تو یہ حالت ہے کہ اگر لیمپ کی بتی خفیف سی بھی اونچی رہے اور اس سے ایسا دھواں نکلے جو نظر بھی نہ آسکتا ہو تو مجھے شدید کھانسی اور نزلہ ہو جاتا ہے۔ناک کی حس اللہ تعالیٰ نے میری ایسی تیز بنائی ہے کہ میں دوسرے لوگوں کی نسبت کئی گنے زیادہ بُو یا خوشبو محسوس کر لیتا ہوں۔یہاں تک کہ جانوروں کے دودھ سے پہچان لیتا ہوں کہ انہوں نے کیا چارہ کھایا ہے۔جس شخص کے ناک کی جس اتنی شدید واقع ہو وہ اس قسم کی باتوں سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔ایک اور ادب مجلس کا یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے مجلس کو مفید بنانا چاہیے۔اور خصوصاً جو باہر سے دوست آئیں انہیں چاہیے کہ اپنی مشکلات پیش کر کے میرے خیالات معلوم کر نے کی کوشش کیا کریں۔بہت لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ بے ادبی ہے مگر میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بے ادبی نہیں بلکہ مجلس کو مفید بنانا ہے۔میں نے دیکھا ہے بسا اوقات مجلس میں دوست خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور میں بھی خاموش بیٹھا رہتا ہوں۔میری اپنی طبیعت ایسی ہے کہ میں گفتگو شروع نہیں کر سکتا۔اس مقام کے لحاظ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فر مایا ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ بولوں مگر طبیعت کی اُفتاد ایسی ہے کہ کوشش کے با وجود میں کلام شروع نہیں کر سکتا اور جب کوئی شخص سوال کرے تبھی میرے لئے گفتگو کا راستہ کھلتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جو دوست باہر سے آیا کرتے تھے وہ مشکل مسائل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا کرتے اور اس طرح گفتگو کا موقع ملتا رہتا تھا اور بعض دوست تو عادتاً بھی کر لیا کرتے اور جب بھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بیٹھتے کوئی نہ کوئی سوال پیش کر دیا کرتے۔مجھے ان میں سے دو شخص جو اس کام کو خصوصیت سے کیا کرتے تھے اچھی طرح یاد ہیں۔ایک