خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 480
خلافة على منهاج النبوة ۴۸۰ جلد سوم امت محمدیہ پر ضحی کا وقت ما ودعك ربك وما قل کے تحت آئے گا سورة الضحیٰ آیت ۱ تا ۳ کے سات معنی بیان کرنے کے بعد مزید تفسیر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔دنیا میں ہر قوم پر ترقی اور تنزل کے مختلف دور آتے ہیں کبھی اقبال اور فتح مندی اس کے شامل حال ہوتی ہے اور کبھی ادبار اور نا کامی کی گھٹائیں اُس پر چھائی ہوتی ہیں۔بالعموم قومیں ترقی کر کے جب تنزل کی طرف جاتیں ہیں تو ہمیشہ کیلئے تباہ اور برباد ہو جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جو زمانہ کنبوت ہے یعنی آپ کے دعوی سے لے کر قیامت تک کا زمانہ یہ دور تنزل سے بالکل محفوظ رہے گا۔صحی کی روشنی یکساں جلوہ گر رہے گی کبھی لوگ خدا سے دور نہیں ہوں گے اور ادبار یا گمراہی کا زمانہ اُمت محمدیہ پر نہیں آئے گا بلکہ ہم مانتے ہیں کہ منی کی حالتیں بھی اُمت محمدیہ پر آئیں گی اور واليل إذا سجیلے کی حالت بھی رونما ہو گی لیکن اس کے ساتھ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قومی حیات کے متعلق ہم ایک وعدہ کرتے ہیں جو دنیا کی اور کسی قوم کے ساتھ ہم نے نہیں کیا کہ اس کی نفی بھی مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قلی سے کے ماتحت ہوگی اور اس کی لیل بھی ما ودعك ربك وما قلى کا ثبوت ہوگی۔جہاں تک ماننے والوں کا تعلق ہے بے شک ان کی مختلف حالتوں کے لحاظ سے کبھی ان پر مٹی کی گھڑیاں آئیں گی اور کبھی لیل کی تاریکی ان پر چھا جائے گی۔مگر جہاں تک شریعت محمد بہ کا اور لوگوں کے خدا تعالیٰ سے تعلق کا تسلسل ہے اس کے لحاظ سے کوئی دور ایسا نہیں ہو گا جو