خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 477
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کے بیٹے کو سارا عرب بادشاہ تسلیم کر لے گا۔پیغا مبر نے کہا ابوبکر جو فلاں قبیلہ میں سے ہیں۔ابو قحافہ نے کہا کس خاندان میں سے ہے؟ پیغا مبر نے کہا فلاں خاندان میں سے۔اس پر ابو قحافہ نے دوبارہ دریافت کیا وہ کس کا بیٹا ہے؟ پیغا مبر نے کہا ابوقحافہ کا بیٹا۔اس پر ابو قحافہ نے کہا لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّد رَّسُولُ الله اور پھر کہا آج | مجھے یقین ہو گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے۔ابو قحافہ پہلے صرف نام ہی کے مسلمان تھے لیکن اس واقعہ کے بعد انہوں نے سچے دل سے سمجھ لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعوی میں راستباز تھے کیونکہ ابوبکر کی خاندانی حیثیت ایسی نہ تھی کہ سارے عرب آپ کو مان لیتے۔پس یہ الہی دین تھی۔بعد میں مسلمانوں کی ذہنیت ایسی بگڑی کہ انہوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ یہ فتوحات ہم نے اپنی طاقت سے حاصل کی ہیں۔کسی نے کہنا شروع کر دیا کہ عرب کی اصل طاقت بنوامیہ ہیں اس لئے خلافت کا حق ان کا ہے۔کسی نے کہا بنو ہاشم عرب کی اصل طاقت ہیں۔کسی نے کہا بنو مطلب عرب کی اصل طاقت ہیں۔کسی نے کہا خلافت کے زیادہ حق دار انصار ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔گو یا تھوڑے ہی سالوں میں مسلمان مار بڈ (MORBID) ہو گئے اور اُن کے دماغ بگڑ گئے۔اُن میں سے ہر قبیلہ نے یہ کوشش شروع کر دی کہ وہ خلافت کو بزور حاصل کرلے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت ختم ہو گئی۔پھر مسلمانوں کے بگڑنے کا دوسرا سبب انار کی (ANARCHI) ہے۔اسلام نے سب میں مساوات کی روح پیدا کی لیکن مسلمانوں نے یہ نہ سمجھا کہ مساوات پیدا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ایک آرگنائزیشن ہو اس کے بغیر مساوات قائم نہیں رہ سکتی۔اسلام آیا ہی اسی لئے تھا کہ وہ ایک آرگنائزیشن اور ڈسپلن قائم کرے اور ڈسپلن بھی ایسا ہو جو ظالمانہ نہ ہولیکن چند ہی سال میں مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ خزانے ہمارے ہیں اور اگر حکام نے ان کے راستہ میں روک ڈالی تو انہوں نے انہیں مارنا اور قتل کرنا شروع کر دیا۔یہ وہ روح تھی جس نے مسلمانوں کو خراب کیا۔انہیں یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ یہ حکومت الہیہ ہے اور اسے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔پس اسے خدا تعالیٰ کے ہی ہاتھ میں رہنے دیا جائے تو بہتر