خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 476
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم کہ جرمن کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا ایک شیر ہے دو تین لومڑ ہیں اور کچھ چوہے ہیں۔شیر سے مرا در شیا تھا لومڑ سے مراد دوسری حکومتیں تھیں اور چوہوں سے مراد جرمن تھے۔گویا جرمن اُس وقت ٹکڑے ٹکڑے تھا روس ایک بڑی طاقت تھی مگر وہ روس کے ساتھ ٹکرایا اور وہاں سے نا کام واپس لوٹا۔اسی طرح انگلستان کو بھی فتح نہ کر سکا اور انجام اس کا یہ ہوا کہ وہ قید ہو گیا۔پھر دوسرا بڑا شخص ہٹلر ہوا بلکہ دو بڑے آدمی دو ملکوں میں پیدا ہوئے یعنی ہٹلر اور مسولینی۔دونوں نے بیشک ترقیات حاصل کیں لیکن دونوں کا انجام شکست ہوا۔مسلمانوں میں سے جس نے یکدم بڑی حکومت حاصل کی وہ تیمور تھا اس کی بھی یہی حالت تھی وہ بیشک دنیا کے کناروں تک گیا لیکن وہ اپنے اس مقصد کو کہ ساری دنیا فتح کرلے حاصل نہ کر سکا۔مثلاً وہ چین کو تابع کرنا چاہتا تھا لیکن تابع نہ کر سکا اور جب وہ مرنے لگا تو اُس نے کہا میرے سامنے انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر ہیں جو مجھے ملامت کر رہے ہیں۔پس صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی آدم سے لے کر اب تک ایسے گزرے ہیں جنہوں نے فردِ واحد سے ترقی کی اور تھوڑے عرصہ میں ہی سارے عرب کو تابع فرمان کر لیا۔اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے ایک خلیفہ نے ایک بہت بڑی حکومت کو توڑ دیا اور باقی علاقے آپ کے دوسرے خلیفہ نے فتح کر لئے۔یہ تغیر جو واقع ہوا محض خدائی نصرت کا نتیجہ تھا کسی انسان کا کام نہیں تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مکہ میں پہنچی تو ایک مجلس میں حضرت ابو بکر کے والد ابوقحافہ بھی بیٹھے ہوئے تھے جب پیغا مبر نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو سب لوگوں پر غم واندوہ کی کیفیت طاری ہو گئی اور سب نے یہی سمجھا کہ اب ملکی حالات کے ماتحت اسلام پراگندہ ہو جائے گا۔چنانچہ انہوں نے کہا اب کیا ہوگا ؟ پیغا مبر نے کہا آپ کی وفات کے بعد حکومت قائم ہو گئی ہے اور ایک شخص کو خلیفہ بنالیا گیا ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ کون خلیفہ مقرر ہوا ہے؟ پیغا مبر نے کہا ابوبکر۔ابوقحافہ نے حیران ہو کر پوچھا کون ابوبکر ؟ کیونکہ وہ اپنے خاندان کی حیثیت کو خوب سمجھتے تھے اور اس حیثیت کے لحاظ سے وہ