خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 475
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۵ جلد سوم یمن کے گورنر نے بیت اللہ کو گرانے کے لئے حملہ کر دیا جس کا قرآن کریم نے اصحاب الفیل کے نام سے ذکر کیا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت فرمایا تو تیرہ سال تک تو صرف تھوڑے سے آدمی آپ پر ایمان لائے مگر ہجرت کے آٹھویں سال بعد سارا عرب ایک نظام کے ماتحت آ گیا اور اسلام کو ایسی طاقت اور قوت حاصل ہوگئی کہ بڑی بڑی حکومتیں اس سے ڈرنے لگیں۔اُس وقت دنیا حکومت کے لحاظ سے دو بڑے حصوں میں من تھی۔اوّل رومی حکومت دوم ایرانی سلطنت۔رومی سلطنت کے ماتحت تمام مشرقی یورپ ، ٹرکی ، ایسے سینیا، یونان، مصر، شام اور اناطولیہ تھا۔اور ایرانی سلطنت کے ماتحت عراق، ایران ، رشین ٹری ٹوری کے بہت سے علاقے افغانستان، ہندوستان کے بعض علاقے اور چین کے بعض علاقے تھے۔ان دونوں حکومتوں کے سامنے عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن ہجرت کے آٹھویں سال بعد سارا عرب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہو گیا۔اس کے بعد جب سرحدات پر عیسائی قبائل کی شرارت کی آپ کو خبر میں ملنی شروع ہوئیں تو پہلے تو آپ خود وہاں تشریف لے گئے اور جب آپ کو معلوم ہوا کہ کوئی شامی لشکر اس وقت جمع نہیں ہو رہا تو آپ بعض قبائل سے معاہدات کر کے بغیر کسی لڑائی کے واپس آگئے۔لیکن تھوڑے عرصہ بعد ہی قبائل نے پھر شرارت شروع کی تو آپ نے ان کی سرکوبی کے لئے حضرت اسامہ بن زید کی سرکردگی میں ایک لشکر تیار کیا۔اس لشکر نے بہت سے قبائل کو سرزنش کی اور بہتوں کو معاہدہ سے تابع کیا۔پھر آپ کی وفات کے بعد اڑھائی سال کے عرصہ میں ہی یہ حکومت عرب سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنی شروع ہوئی۔فتح مکہ کے پانچ سال کے بعد ایرانی حکومت پر حملہ ہو گیا تھا اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا تھا اور چند سالوں میں رومی سلطنت اور دوسری سب حکومتیں تباہ ہو چکی تھیں۔اتنی بڑی فتح اور اتنے عظیم الشان تغیر کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔تاریخ میں صرف نپولین کی ایک مثال ملتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو تعداد اور طاقت میں اس سے زیادہ ہو۔جرمن کا ملک اُس وقت چودہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا اور اس طرح اس کی تمام طاقت منتشر تھی۔چنانچہ ایک مشہور امریکن پریذیڈنٹ سے کسی نے پوچھا