خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 473
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۳ جلد سوم حتى يغيروا ما بانفسهم سے یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کے ساتھ اپنے سلوک میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنے دلوں میں خرابی پیدا نہ کر لے۔اور یہ ایسی چیز ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے لیکن اتنی سادہ سی بات بھی قومیں فراموش کر دیتی ہیں اور وہ تباہ ہو جاتی ہیں۔انسان کا مرنا تو ضروری ہے اگر وہ مر جائے تو اس پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا لیکن قوموں کے لئے مرنا ضروری نہیں۔تو میں اگر چاہیں تو وہ زندہ رہ سکتی ہیں لیکن وہ زندگی کے اصول کو فراموش کر کے ہلاکت کے سامان پیدا کر لیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مسلمانوں کو ایسی تعلیم دی تھی کہ اگر وہ اس پر عمل کرتے تو ہمیشہ زندہ رہتے لیکن قوم نے عمل کرنا چھوڑ دیا اور وہ مرگئی۔دنیا بار بار یہ سوال کرتی ہے اور میرے سامنے بھی یہ سوال کئی دفعہ پیش ہوا ہے کہ با وجو د اس کے کہ خدا تعالیٰ نے صحابہؓ کو ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم دی تھی جس میں ہر قسم کی سوشل تکالیف اور مشکلات کا علاج تھا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیا وہ تعلیم کہاں گئی؟ اور ۳۳ سال میں ہی وہ کیوں ختم ہوگئی ؟ عیسائیوں کے پاس مسلمانوں سے کم درجہ کی خلافت تھی لیکن ان میں اب تک پوپ چلا آ رہا ہے لیکن مسلمانوں نے ۳۳ سال کے عرصہ میں ہی خلافت کو ختم کر دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیوں میں پوپ کے باغی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود اُن کی کثرت ایسی ہے جو پوپ کو مانتی ہے اور انہوں نے اس نظام سے فائدے بھی اٹھائے ہیں لیکن مسلمانوں میں ۳۳ سال تک خلافت رہی اور پھر ختم ہو گئی اس کی وجہ یہی تھی کہ مسلمانوں کی ذہنیت خراب ہو گئی۔اگر ان کی ذہنیت درست رہتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ نعمت ان کے ہاتھ سے چھینی جاتی۔مجھے یہ حقیقت ایک دفعہ رویا * میں بھی بتائی گئی تھی۔میں نے دیکھا کہ پنسل کے لکھے ہوئے کچھ نوٹ ہیں جو کسی مصنف یا مؤرخ کے ہیں اور انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں پنسل بھی COPYING یاBLUE رنگ کی ہے۔نوٹ صاف طور پر نہیں پڑھے جاتے لیکن جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوٹوں میں یہ ید رو یا ۲۴، ۲۵ اکتو بر۱۹۵۳ء کی درمیانی شب کا ہے )