خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 472
خلافة على منهاج النبوة ۴۷۲ جلد سوم انسان دنیا میں ایسا نہیں ہوا جو ہمیشہ زندہ رہا ہو لیکن اگر قو میں چاہیں تو وہ ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہیں۔یہی امید دلانے کیلئے حضرت مسیح ناصری نے فرمایا کہ:۔د میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے لیے ،، یعنی یوں تو ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے جس کے نتیجہ میں میں تم سے ایک دن جدا ہو جاؤں گا لیکن اگر تم چاہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل ما نگتے رہو تو تم ابد تک زندہ رہ سکتے ہو۔پس انسان اگر چاہے بھی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا لیکن تو میں اگر چاہیں تو زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر وہ زندہ نہ رہنا چاہیں تو مر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی زندگی کی امید دلاتے ہوئے الوصیۃ میں تحریر فرمایا کہ:۔تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اُس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت آنہیں سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اُس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی ہے،،۔ہمیشہ کے یہی معنی ہیں کہ جب تک تم چاہو گے قدرت ثانیہ تم میں موجود رہے گی اور قدرت ثانیہ کی وجہ سے تمہیں دائمی حیات عطا کی جائے گی۔اس جگہ ” قدرت ثانیہ سے ایک تو وہ تائیدات الہیہ مراد ہیں جو مومنوں کے شامل حال ہوا کرتی ہیں اور دوسرے وہ سلسلۂ خلافت مراد ہے جو نور نبوت کو ممتد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ خود قائم فرماتا ہے۔اگر قوم چاہے اور وہ اپنے آپ کو مستحق بنائے تو تائیدات الہیہ بھی ہمیشہ اس کے شامل حال رہ سکتی ہیں اور اگر قوم چاہے اور وہ اپنے آپ کو مستحق بنائے تو انعام خلافت سے بھی وہ دائی طور پر متمتع ہوسکتی ہے۔خرابیاں ہمیشہ ذہنیت کے مسخ ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔ذہنیت درست رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو چھوڑ دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ