خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 471

خلافة على منهاج النبوة ۴۷۱ جلد سوم تم ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھو سورة النمل آیت ۶۵ آ مَنْ يَبْدَوُا الخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُۂ کی تفسیر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں :۔اس جگہ بھی مَن يَبْدَوُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُه سے طبقات الارض والی پیدائش مراد نہیں کیونکہ طبقات الارض والی پیدائش تو نہ کسی نے دیکھی ہے اور نہ اس کو تو حید باری تعالیٰ کی دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔اس جگہ پیدائش اولیٰ سے مراد قوموں کو تمکنت بخشنا اور يُعِيدُۂ سے مراد غالب قوموں کے زوال کے بعد اُن میں دوبارہ زندگی اور بیداری کی روح پیدا کرنا ہے۔گویا بتایا کہ اگر تم قوموں کی ترقی اور ان کے زوال کی تاریخ پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی ہے تو صرف الہی مدد اور تائید سے کی ہے اور جب بھی کوئی قوم اپنے انحطاط کے بعد دوبارہ زندہ ہوئی ہے تو اس کا احیائے ثانیہ بھی الہی تدبیروں کے ماتحت ہی ہوا ہے خود بخود نہیں ہوا۔اس آیت میں قوموں کی ترقی اور غلبہ کے بعد ان کے زوال اور پھر زوال کے بعد ان کے دوبارہ احیاء کا ذکر کر کے مسلمانوں کو بھی نہایت لطیف پیرا یہ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ تمہیں بھی دنیا پر محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے غلبہ حاصل ہوگا اس لئے کبھی اس ترقی کو اپنے زور بازو کا نتیجہ نہ سمجھنا ورنہ تمہاری ساری ترقیات جاتی رہیں گی اور پھر آسمانی تدبیر کے بغیر تمہیں دوبارہ دنیا میں غلبہ میسر نہیں آسکے گا۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس قیمتی سبق کو فراموش کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قومی طور پر وہ ایسے زوال کا شکار ہوئے کہ اغیار کی نگاہ میں وہ ہنسی کا نشانہ بن کر رہ گئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان دنیا میں پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔کوئی