خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 467

خلافة على منهاج النبوة ۴۶۷ جلد سوم عبادالرحمن کی صفات کا ذکر سورة الفرقان آیت ۶۴ عباد الرحمن کی صفات بیان کرتے ہوئے مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرمایا :۔یہی کیفیت خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی جاری رہی اور انہوں نے بھی قیصر و کسریٰ سے زیادہ طاقت رکھنے کے باوجو دسر کاری اموال کو کبھی بے جا خرچ نہیں کیا بلکہ ایک ایک پیسہ اور ایک ایک پائی کی حفاظت کی اور اگر کسی جگہ انہوں نے روپیہ کا بے جا خرچ دیکھا تو بڑی سختی سے اس کو روکا اور افسروں کو معزول کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب اپنے زمانہ خلافت میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو آپ نے دیکھا کہ بعض صحابہ نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ریشمی کپڑوں سے مراد وہ کپڑے ہیں جن میں کسی قدر ریشم ہوتا ہے ورنہ خالص ریشم کے کپڑے تو سوائے کسی بیماری کے مردوں کو پہنے ممنوع ہیں۔آپ ان لوگوں پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ کیا تم اب ایسے آسائش پسند ہو گئے ہو کہ ریشمی کپڑے پہنتے ہوئے۔اس پر ان میں سے ایک شخص نے اپنی نمیض اٹھا کر دکھائی تو معلوم ہوا کہ اس نے نیچے موٹی اون کا سخت کرتا پہنا ہوا تھا۔اس نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ ہم نے ریشمی کپڑے اس لئے نہیں پہنے کہ ہم ان کو پسند کرتے ہیں بلکہ اس لئے پہنے ہیں کہ اس ملک کے لوگ بچپن سے ایسے امراء دیکھنے کے عادی ہیں جو نہایت شان و شوکت سے رہتے تھے پس ہم نے بھی اپنے لباسوں کو صرف ملکی سیاست کے طور پر بدلا ہے ورنہ ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں۔صحابہ کے اس عمل سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں بھی کبھی اسراف سے کام نہیں لیا اور اگر کسی مقام پر ان سے کوئی لغزش بھی ہوئی تو خلفاء نے اُن کو ڈانٹا اور اُنہیں نصیحت کی کہ وہ اموال کے خرچ میں افراط و تفر !