خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 464
خلافة على منهاج النبوة ۴۶۴ جلد سوم مجلس کے آداب سورۃ النور آیت ۶۳ میں مجلس کے آداب بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔اس آیت میں قومی نظام کو درست رکھنے کے لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب مومن کسی مشورہ کے لئے سردار قوم کے پاس جمع ہوں تو اس کی اجازت کے بغیر مجلس سے نہ جائیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ مومن ہوں گے ورنہ نہیں۔پھر سردار قوم کو بھی ہدایت دی کہ اگر مشاورت میں جمع ہونے والے لوگوں میں سے کوئی شخص اپنے کسی ضروری کام کے لئے اجازت مانگے تو اسے اجازت دے دیں لیکن قومی مشورہ کے وقت کسی ایسی ضرورت کا پیش آ جانا جس کی وجہ سے مجلس شوری کو چھوڑنا پڑے یہ بھی کسی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے اس لئے اے سردار جماعت ! تو ایسے موقع پر اجازت تو دے دیا کرمگر چونکہ وہ ضرورت جس کے لئے وہ اجازت مانگتے ہیں اُن کی کسی شامت اعمال کا نتیجہ ہوگی یا قو می مجلس سے اُٹھ جانے کی وجہ سے وہ لوگ سردار جماعت کی صحبت اور اس کے مشورہ سے اور مل کر کام کرنے سے محروم رہیں گے اور اس طرح ان کے علم اور تجربہ میں کمی آجائے گی اس لئے تو اللہ تعالیٰ دعا بھی کر کہ یہ لوگ اس کے بداثرات سے بچ جائیں اور اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہی کا ازالہ فرما دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو اس شدت کے ساتھ اس ہدایت پر عمل کرنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ انہیں طبعی ضروریات کے لئے بھی مجلس سے بلا اجازت جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ایسی حالت میں صحابہ سرک کر سامنے آجاتے یا انگلی اٹھا دیتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ جاتے کہ کوئی حاجت ہے اور ہاتھ کے اشارہ سے اجازت دے دیتے مگر اس زمانہ میں عام طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا جاتا۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول ایک دفعہ لاہور تشریف لے گئے جب آپ نے واپس