خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 458
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۸ جلد سوم میں کوئی شک نہیں کہ پہلوں کو خلافت یا نبوت کی شکل میں ملی یا ملوکیت کی صورت میں۔مگر مشابہت کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہر رنگ میں مشابہت ہو بلکہ صرف اصولی رنگ میں مشابہت دیکھی جاتی ہے۔مثلاً کسی لمبے آدمی کا ہم ذکر کریں اور پھر کسی دوسرے کے متعلق کہیں کہ وہ بھی ویسا ہی لمبا ہے تو اب کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو یہ کہے کہ جب تم نے دونوں کو لمبا قرار دیا ہے تو یہ مشابہت کس طرح درست ہوئی۔ان میں سے ایک چور ہے اور دوسرا نمازی یا ایک عالم ہے اور دوسرا جاہل بلکہ صرف لمبائی میں مشابہت دیکھی جائے گی ہر بات اور ہر صورت میں مشابہت نہیں دیکھی جائے گی۔اس کی مثال ہمیں قرآن کریم سے بھی ملتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا: شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إلى فِرْعَوْنَ رَسُوگا کہ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر نگران ہے اور وہ ویسا ہی رسول ہے جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آپس میں مشابہت بیان کی ہے حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف بھیجے گئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک بادشاہ کی طرف مبعوث نہیں ہوئے تھے بلکہ ساری دنیا کے بادشاہوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے۔پھر حضرت موسی کی رسالت کا زمانہ صرف اُنیس سو سال تک تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا زمانہ قیامت تک کے لئے ہے۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات میں اہم فرق ہے۔مگر با وجود ان اختلافات کے مسلمان یہی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل ہیں۔پس اگر اس قسم کے اختلافات کے باوجود آپ کی مشابہت میں فرق نہیں آتا تو اگر پہلوں کی خلافت سے بعض جزوی امور میں خلفائے اسلام مختلف ہوں تو اس میں اعتراض کی کون سی بات ہے۔اصل بات جو اس آیت میں بتائی گئی تھی وہ یہ تھی کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو سنبھالنے کے لئے اُن کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی