خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 456
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۶ جلد سوم بھی عجیب آدمی ہیں اُدھر علی کی مجلس میں چلے جاتے ہیں اور ادھر معاویہ کی مجلس میں شریک ہو جاتے ہیں؟ وہ کہنے لگے نماز حضرت علی کے ہاں اچھی ہوتی ہے اور کھانا حضرت معاویہ کے ہاں اچھا ملتا ہے اس لئے جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو میں اُدھر چلا جاتا ہوں اور جب روٹی کا وقت آتا ہے ادھر آ جاتا ہوں۔غیر مبائعین کا بھی ایسا ہی حال ہے بلکہ ان کا لطیفہ تو حضرت ابو ہریرۃ کے لطیفہ سے بھی بڑھ کر ہے۔میں ایک دفعہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ کسی دوست نے ایک غیر مبائع کے متعلق بتایا کہ وہ کہتے ہیں عقا ئد تو مولوی محمد علی صاحب کے درست ہیں مگر دعائیں میاں صاحب کی زیادہ قبول ہوتی ہیں گویا جیسے حضرت ابو ہریرہ نے کہا تھا کہ روٹی معاویہ کے ہاں اچھی ملتی ہے اور نماز علی کے ہاں اچھی ہوتی ہے اسی طرح اُس نے کہا کہ عقائد تو مولوی محمد علی صاحب کے درست ہیں مگر دعائیں اِن کی قبول ہوتی ہیں۔تو قوم میں بادشاہت آجانے کے باوجود پھر بھی کئی لوگ غریب ہی رہتے ہیں مگر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ قوم بادشاہ ہے کیونکہ جب کسی قوم میں سے کوئی بادشاہ ہو تو تمام قوم بادشاہت کے فوائد سے حصہ پاتی ہے۔اسی طرح جب کسی قوم میں سے بعض افراد کو خلافت مل جائے تو یہی کہا جائے گا کہ اُس قوم کو وہ انعام ملا ہے۔یہ ضروری نہیں ہوگا کہ ہر فرد کو یہ انعام ملے۔ر ا دوسری مثال اس کی یہ آیت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَمِنُوا بِمَا انزل اللهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَاوراء ٢٧ که جب یہود سے یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں جو کچھ اُترا ہے اُس پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں نُؤْمِنُ بما انزل نا ہم تو اسی پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوا ہے اور یہ امرصاف ظاہر ہے کہ وحی ان پر نہیں اتری تھی بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔مگر وہ کہتے ہیں ہم پر اُتری گویا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کلام کے متعلق انزل علینا کہتے ہیں۔اسی طرح بعض افراد پر جو اس قسم کا انعام نازل ہو جس سے ساری قوم کو فائدہ پہنچتا ہوتو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ ساری قوم کو ملا۔چونکہ ملوکیت کے ذریعہ سے ساری قوم کی عزت ہوتی ہے اس وجہ سے جَعَلَكُمْ تُلُوكًا فرمایا۔اور چونکہ خلافت سے سب قوم نے