خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 33
خلافة على منهاج النبوة ۳۳ جلد سوم اخلاص کا جو جذ بہ پیدا ہورہا ہے اسے کچل دیا جائے۔پچھلے دنوں یہ طریق نکالا گیا تھا کہ میرے آنے پر چونکہ ہجوم زیادہ ہو جاتا ہے اس لئے قطار باندھ کر مصافحہ کیا جائے اور کسی کو آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔میں نے مستقل طور پر اسے کبھی پسند نہیں کیا کیونکہ جب جذبات کو دبا دیا جائے تو آہستہ آہستہ مُردنی پیدا ہو جاتی ہے۔بچوں میں بھی اگر خلوص کے جذبات پیدا ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم انہیں دبا دیں۔مگر یہ ایک ذریعہ ہے جس سے ہم دوسروں کے لئے موقع پیدا کر سکتے ہیں بچے اور رنگ میں بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں اور بوجہ قادیان میں مستقل رہنے کے ان کے لئے اور مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔پس اگر باہر سے آنے والے لوگوں کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے ماتحت بچوں کو پیچھے رکھا جائے جبکہ اور موقعوں پر بھی وہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں تو اس سے ان کے جذبات کو ٹھیس لگنے کا احتمال نہیں ہوسکتا۔پھر ایک اور ہدایت اس موقع کے متعلق میں یہ دینا چاہتا ہوں کہ اسلام نے اجتماع کے موقعوں پر حفظانِ صحت کا خصوصیت سے خیال رکھا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی۔حفظانِ صحت کا خیال نہ صرف اپنی ذات کے لئے مفید ہوتا ہے بلکہ دوسروں پر بھی اس کا اچھا اثر پڑتا ہے۔بعض لوگ مضبوط ہوتے ہیں اور کئی قسم کی بدعنوانیاں کرنے کے باوجود ان کی صحت میں نمایاں خرابی پیدا نہیں ہوتی۔جس سے وہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ ان پر کوئی بُرا اثر نہیں پڑا اس لئے دوسروں پر بھی کوئی خراب اثر ان کی وجہ سے پیدا نہیں ہوسکتا۔حالانکہ دنیا میں سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے اندر بیماریوں کے اثرات موجود ہوتے ہیں اور اپنی قوت کی وجہ سے وہ ان کا اثر محسوس نہیں کرتے مگر ان سے ملنے والے ان کے اثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ اور عیدین کے موقع پر فرمایا کہ نہا کر آؤ ، اچھے کپڑے پہن کر آؤ، خوشبو استعمال کرو اور ان امور کی تاکید کی۔آپ خود ہمیشہ غسل کرتے اور دوسروں کو غسل کرنے کی تاکید فرماتے۔خوشبو استعمال کرتے اور دوسروں کو خوشبو لگانے کی تاکید کر تے۔حالانکہ جمعہ یا عیدین کے ساتھ منسل کی کوئی خصوصیت نہیں۔ہر وقت انسان