خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 453
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۳ جلد سوم بڑے لشکر کا ہم کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں وہ بہت ہیں اور ہم تھوڑے ، جیش اسامہ کو روک لیا جائے تا کہ وہ ہماری مدد کر سکے۔اُن میں بھی وہی تو کل آ گیا اور انہوں نے بھی ایک ہی وقت میں قیصر و کسریٰ سے جنگ شروع کر دی اور آخر ان دونوں حکومتوں کا تختہ اُلٹ کر رکھ دیا۔اسی جنگ کے نتیجہ میں جب ایران فتح ہوا اور کسری کے خزائن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو مال غنیمت میں کسریٰ کا ایک رومال بھی آیا جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا۔ایک دن انہیں کھانسی اُٹھی تو انہوں نے اپنی جیب سے کسری شاہ ایران کا رومال نکال کر اُس میں تھوک دیا اور پھر کہابخ بخ ابو هُرَيْرَةَ واہ واہ ابو ہریرہ ! تیری بھی کیا شان ہے کہ تو آج کسری شاہ ایران کے رومال میں تھوک رہا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا الفاظ استعمال کئے ہیں انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض دفعہ مجھے اتنے فاقے ہوتے تھے کہ میں بھوک سے بیتاب ہو کر بے ہوش ہو جاتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے میرے سر پر جوتیاں مارا کرتے مگر آج یہ حالت ہے کہ میں شاہی رومال میں تھوک رہا ہوں۔۲۵ تو يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کی علامت خدا تعالیٰ نے خلفائے راشدین کے ذریعہ نہایت واضح رنگ میں پوری فرمائی اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے سوا کبھی کسی کا خوف اپنے دل میں نہیں آنے دیا۔اسی طرح حضرت عثمان جیسے با حیا اور رقیق القلب انسان نے اندرونی مخالفت کا مقابلہ جس یقین سے کیا ہے وہ انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے حالانکہ وہ عام طور پر کمزور سمجھے جاتے تھے مگر جب ان کا اپنا زمانہ آیا تو انہوں نے ایسی بہادری اور جرات سے کام لیا کہ انسان ان واقعات کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔یہی حال حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہے کسی مخالفت یا خطرے کی انہوں نے پرواہ نہیں کی حالانکہ اندرونی خطرے بھی تھے اور بیرونی بھی مگر ان کے مدنظر صرف یہی امر رہا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہو اور ذرا بھی کسی سے خوف کھا کر اُس منشائے الہی میں جو انہوں نے سمجھا تھا فرق نہیں آنے دیا۔غرض تمام خلفاء کے حالات میں ہمیں يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کا نہایت اعلیٰ