خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 452
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۲ جلد سوم جنگ جاری ہونے کے جب حضرت ابو بکر کے سامنے یہ سوال پیش ہوا کہ کسری کی فوجوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں سرگرمی دکھانی شروع کر دی ہے اور ان کے بہت سے علاقے جو مسلمانوں کے قبضہ میں تھے اُن میں بغاوت اور سرکشی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں تو آپ نے دیا کہ فوراً امیران پر حملہ کر دو۔صحابہ کہتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں دوز بر دست حکومتوں سے کس طرح مقابلہ ہو گا۔مگر آپ فرماتے ہیں کچھ پرواہ نہیں جاؤ اور مقابلہ کرو۔مسلمان چونکہ اُس وقت رومی حکومت سے جنگ کرنے میں مشغول تھے اس لئے ایران پر مسلمانوں کا یہ حملہ اس قدر دور از قیاس تھا کہ ایران کے بادشاہ کو جب یہ خبریں پہنچیں کہ مسلمان فوجیں بڑھتی چلی آ رہی ہیں تو اُس نے ان خبروں کو کوئی اہمیت نہ دی اور کہا کہ لوگ خواہ مخواہ جھوٹی افواہیں اُڑا رہے ہیں مسلمان بھلا ایسی حالت میں جبکہ وہ پہلے ہی ایک خطر ناک جنگ میں مبتلا ہیں ایران پر حملہ کرنے کا خیال بھی کر سکتے ہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ تک تو ایرانیوں کی شکست کی بڑی وجہ یہی ہوئی کہ دارالخلافہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی فوج نہیں آئی اور بادشاہ خیال کرتا رہا کہ لوگ جھوٹی خبر میں اُڑا رہے ہیں۔مگر جب کثرت اور تواتر کے ساتھ اسے اس قسم کی خبریں پہنچیں تو اُس نے اپنا ایک جرنیل بھیجا اور اسے حکم دیا کہ میرے پاس صحیح حالات کی رپورٹ کرو۔چنانچہ اُس نے جب رپورٹ کی کہ مسلمان واقعہ میں حملہ کر رہے ہیں اور بہت سے حصوں پر قابض بھی ہو چکے ہیں تب اُس نے ان کے مقابلہ کے لئے فوج بھیجی۔اس سے تم اندازہ لگا لو کہ مسلمانوں کا اس لڑائی میں کو دنا بظاہر کتنا خطر ناک تھا جبکہ اس کے ساتھ ہی وہ رومی لشکر کا بھی مقابلہ کر رہے تھے۔مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خدا تعالیٰ نے مقام خلافت پر کھڑا کرنے کے بعد جو قوت بخشی تھی اس کے آگے ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اتنے مسلمان کہاں سے آئیں گے جو ایرانی لشکر کا مقابلہ کر سکیں ، انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا سامان اور اسلحہ کہاں سے آئے گا جو ایرانی فوجوں کے سامان اور اسلحہ کے مقابلہ میں کام آسکے۔انہوں نے ایرانیوں کی سرکشی کی خبر سنتے ہی فوراً اپنے سپاہیوں کو اس آگ میں کود جانے کا حکم دے دیا اور کسری سے بھی جنگ شروع کر دی۔اس کے بعد جب حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے تو وہی عمر " جو ابو بکر کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ اتنے