خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 451

خلافة على منهاج النبوة ۴۵۱ جلد سوم دوسرا سوال زکوۃ کا تھا صحابہ نے عرض کیا کہ اگر آپ لشکر نہیں روک سکتے تو صرف اتنا کر لیجئے کہ ان لوگوں سے عارضی صلح کرلیں اور انہیں کہہ دیں کہ ہم اس سال تم سے زکوۃ نہیں لیں گے اس دوران میں ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا اور تفرقہ کے مٹنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے گی۔موجودہ صورت میں جبکہ وہ جوش سے بھرے ہوئے ہیں اور جبکہ وہ لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں ان سے زکوۃ وصول کرنا مناسب نہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی ایک رتی بھی زکوۃ میں دیا کرتے تھے اور اب نہیں دیں گے تو میں اُس وقت تک ان سے جنگ جاری رکھوں گا جب تک کہ وہ رتی بھی ان سے وصول نہ کرلوں۔اس پر صحابہ نے کہا اگر جیش اسامہ بھی چلا گیا اور ان لوگوں سے عارضی صلح بھی نہ کی گئی تو پھر دشمن کا کون مقابلہ کرے گا مدینہ میں تو بڑھے اور کمزور لوگ یا چند نوجوان ہیں وہ بھلا لاکھوں کا کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اے دوستو ! اگر تم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ابو بکر اکیلا ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوگا۔یہ دعوی اس شخص کا ہے جسے فنونِ جنگ سے کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی اور جس کے متعلق عام طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دل کا کمزور ہے۔پھر یہ جرات ، یہ دلیری ، یہ یقین اور یہ وثوق آپ میں کہاں سے آیا؟ اس وجہ سے آیا کہ آپ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ میں خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوں اور مجھ پر ہی تمام کاموں کی ذمہ داری ہے پس میرا فرض ہے کہ میں مقابلہ کیلئے تیار ہو جاؤں۔کامیابی دینا یا نہ دینا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر وہ کامیابی دینا چاہے گا تو آپ دے دے گا اور اگر نہیں دینا چاہے گا تو سارے لشکر مل کر بھی کامیاب نہیں کر سکتے۔۲۴ اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی یہ جرات دیکھو کہ انہوں نے اپنے عہد خلافت میں دنیا کی دو زبر دست حکومتوں یعنی قیصر و کسریٰ سے بیک وقت جنگ شروع کر دی۔حالانکہ اُس زمانہ میں صرف قیصر کا مقابلہ کرنا بھی ایسا ہی تھا جیسے آجکل افغانستان کی حکومت امریکہ یا انگلستان سے لڑائی شروع کر دے۔مگر با وجود اتنی زبر دست حکومت کے ساتھ