خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 450
خلافة على منهاج النبوة ۴۵۰ جلد سوم تدریجی طور پر دشمنوں میں جوش پیدا کیا تا کہ وہ اتنا زور نہ پکڑ لیں کہ سب ملک پر چھا جائیں۔لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یکدم تمام عرب مرتد ہو گیا صرف مکہ اور مدینہ اور ایک اور چھوٹا سا قصبہ رہ گئے باقی سب مقامات کے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور وہ لشکر لے کر مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔بعض جگہ تو ان کے پاس ایک ایک لاکھ کا بھی لشکر تھا مگر ادھر صرف دس ہزار کا ایک لشکر تھا اور وہ بھی شام کو جارہا تھا اور یہ وہ لشکر تھا جسے اپنی وفات کے قریب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اور اسامہ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا باقی جو لوگ تھے وہ یا تو کمزور اور بڑھے تھے یا پھر گنتی کے چند نوجوان تھے۔یہ حالات دیکھ کر صحابہ نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہ کا لشکر بھی روانہ ہو گیا تو مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں ہو سکے گا۔چنانچہ اکابر صحابہ کا ایک وفد جن میں حضرت عمرؓ اور حضرت علی بھی شامل تھے اور جو شجاعت اور دلیری میں مشہور تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کچھ عرصہ کے لئے اس لشکر کو روک لیا جائے جب بغاوت فرو ہو جائے تو پھر بے شک اسے بھجوا دیا جائے مگر اب اس کا بھیجوانا خطرہ سے خالی نہیں۔مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں اور دشمن کا لشکر ہماری طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نہایت غصہ کی حالت میں فرمایا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعدا ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اُسے روک لے۔میں اس لشکر کو کسی صورت میں روک نہیں سکتا۔اگر تمام عرب باغی ہو گیا ہے تو بے شک ہو جائے اور اگر مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں تو بے شک نہ رہے خدا کی قسم ! اگر دشمن کی فوج مدینہ میں گھس آئے اور ہمارے سامنے مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔۲۳ اگر تم دشمن کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دو میں اکیلا تمام دشمنوں کا مقابلہ کروں گا۔یہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کی صداقت کا کتنا بڑا ثبوت ہے۔