خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 449
خلافة على منهاج النبوة ۴۴۹ جلد سوم شیعہ ثابت ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا بظاہر تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے مگر میرا دل مطمئن نہیں۔آخر وزیر انہیں الگ لے گیا اور کہا سچ سچ بتاؤ تمہارا مذہب کیا ہے؟ اس نے کہا میں سنی ہوں۔اس نے کہا پھر تم نے ”بر ہر سہ لعنت کیوں کہا تھا ؟ وہ بزرگ کہنے لگے تمہاری ان الفاظ سے تو مراد یہ تھی کہ ابو بکر، عمر اور عثمان پر لعنت ہو مگر میری مراد یہ تھی کہ آپ دونوں اور مجھ پر لعنت ہو۔آپ لوگوں پر اس لئے کہ آپ بزرگوں پر لعنت کرتے ہیں اور مجھ پر اس لئے کہ مجھے اپنی بد بختی سے تم جیسے لوگوں کے پاس آنا پڑا۔غرض انسان کئی طریق پر وقت گزار لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح اس نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا۔مگر فرمایا يَعْبُدُونَني لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا خلفاء انتہائی طور پر دلیر ہوں گے اور خوف و ہر اس ان کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا وہ جو کچھ کریں گے خدا کی رضا کے لئے کریں گے کسی انسان سے ڈر کر ان سے کوئی فعل صادر نہیں ہوگا۔یہ علامت بھی خلفائے راشدین میں تمام و کمال پائی جاتی ہے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو اُس وقت سارا عرب مرتد ہو گیا صرف دو جگہ نماز با جماعت ہوتی تھی باقی تمام مقامات میں فتنہ اُٹھ کھڑا ہوا اور سوائے مکہ اور مدینہ اور ایک چھوٹے سے قصبہ کے تمام ملک نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا تھا کہ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً " تو اُن کے مالوں سے صدقہ لے کسی اور کو یہ اختیار نہیں کہ ہم سے زکوۃ وصول کرے۔غرض سارا عرب مرتد ہو گیا اور وہ لڑائی کے لئے چل پڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گو اسلام کمزور تھا مگر لوگ متفرق طور پر حملہ کرتے تھے کبھی ایک گروہ نے حملہ کر دیا اور کبھی دوسرے نے۔جب غزوہ احزاب کے موقع پر کفار کے لشکر نے اجتماعی رنگ میں مسلمانوں پر حملہ کیا تو اُس وقت تک اسلام ایک حد تک طاقت پکڑ چکا تھا گوا بھی اتنی زیادہ طاقت حاصل نہیں ہوئی تھی کہ انہیں آئندہ کے لئے کسی حملہ کا ڈر ہی نہ رہتا۔اس کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ فتح کرنے کے لئے گئے تو اُس وقت عرب کے بعض قبائل بھی آپ کی مدد کے لئے کھڑے ہو گئے اس طرح خدا تعالیٰ نے