خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 32

خلافة على منهاج النبوة ۳۲ جلد سوم آتا کہ مال کی وجہ سے انہیں جو فوقیت حاصل ہے اس کا ہم کیا جواب دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللهِ الْحَمدُ لِله اور چونتیس دفعہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔یہ سو دفعہ ذکر الہی ہو جائے گا اور بڑے ثواب کا موجب ہوگا۔انہوں نے بڑے شوق سے اس پر عمل شروع کر دیا۔مگر چونکہ صحابہ میں سے ہر شخص نیکی کے حصول کے لئے کوشاں رہتا تھا امراء کا کوئی ایجنٹ بھی وہاں موجود تھا۔اس نے انہیں جا کر بتا دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذکر بتایا ہے اور انہوں نے بھی پڑھنا شروع کر دیا۔کچھ دنوں بعد پھر غرباء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو امراء نے بھی پڑھنا شروع کر دیا۔ا آپ نے فرمایا جب خدا کسی پر اپنا فضل نازل کرنا شروع کر دے تو میں اسے کس طرح روک دوں سے۔باوجود اس کے کہ دولت انسان کو اعمال میں سست کر دیتی ہے اگر وہ ست نہیں ہوتے بلکہ تقویٰ اور اخلاص میں بڑھ رہے ہیں تو میں انہیں نیکی سے کس طرح محروم کر سکتا ہوں۔اسی طرح با وجود اس کے کہ متواتر صحبت انسان کو ست کر دیتی ہے اگر کوئی شخص اپنے اخلاص میں ترقی ہی کرتا چلا جاتا ہے تو کون ایسے شخص کو محروم کر سکتا ہے۔پس میرا یہ منشاء نہیں کہ قادیان کے وہ مخلصین جو اپنے اوقات اور کاموں کا حرج کر کے اس مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے برکات کے وعدے کئے ہیں اور پھر اپنے امام کی مجلس میں حاضر ہوتے ہیں انہیں محروم کر دیا جائے۔بلکہ میرا منشاء صرف یہ ہے کہ باہر سے آنے والوں کے حق کو نظر انداز نہ کیا جائے۔اور اگر کبھی قادیان کے مخلصین باری باری اپنا حق بھی چھوڑ کر باہر کے لوگوں کو آگے بیٹھنے کا موقع دے دیا کریں تو میرے نزدیک یہ ان کے لئے ثواب کا موجب ہوگا۔پھر ایک اور چیز بھی جس سے یہ موقع نکالا جاسکتا ہے بچوں کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ہے کہ وہ پیچھے رہیں گے۔اس لحاظ سے سکولوں کے طالبعلم جو چھوٹی عمر کے ہوں اگر بعض دفعہ باہر سے آنے والے دوستوں کے لئے ان کو پیچھے بٹھا کر موقع نکالا جائے تو یہ بھی ایک طریق ہے جس سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔مگر بچوں کے پیچھے بٹھانے کا بھی میں یہ مطلب نہیں سمجھتا کہ ان کے اندر