خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 445

خلافة على منهاج النبوة ۴۴۵ جلد سوم ہدایت کے سامان ہوتے رہے۔اصل معجزہ یہی ہوتا ہے کہ کسی کی وفات کے بعد اس کی خواہشات پوری ہوتی رہیں۔زندگی میں اگر کسی کی خواہشیں پوری ہوں تو کہا جا سکتا ہے کہ اس نے تذبیروں سے کام لے لیا تھا مگر جس کی زندگی ختم ہو جائے اور پھر بھی اس کی خواہشیں پوری ہوتی رہیں اس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے کسی ظاہری تدبیر سے کام لیا ہو گا بلکہ یہ بات اس امر کا ثبوت ہو گا کہ وہ شخص خدا تعالیٰ کا محبوب اور پیارا تھا اور اللہ تعالیٰ کا اس سے گہرا تعلق تھا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشفی حالت میں سراقہ بن مالک کے ہاتھوں میں سونے کے کڑے دیکھے۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ صرف یہ نہیں کہ آپ نے اس کے ہاتھوں میں سونے کے کڑے دیکھے بلکہ معجزہ یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ایک لمبا عرصہ گزرنے کے بعد مالِ غنیمت میں سونے کے کڑے آئے اور باوجود اس کے کہ شریعت میں مردوں کو سونے کے کڑے پہننے ممنوع ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ جذبہ پیدا کر دیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کشف کو پورا کرنے کے لئے اسے سونے کے کڑے پہنائیں چنانچہ آپ نے اسے پہنائے۔پس اس واقعہ میں معجزہ یہ ہے کہ باوجود یکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کا جذبہ پیدا کر دیا۔پھر یہ بھی معجزہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات حضرت عمر نے سن لی اور آپ کو اس کے پورا کرنے کا موقع مل گیا۔آخر حضرت عمرؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات تو نہیں سنا کرتے تھے ممکن ہے یہ بات کسی اور کے کان میں پڑتی اور وہ آگے کسی اور کو بتانا بھول جاتا۔مگر اس معجزہ کا یہ بھی ایک حصہ ہے کہ جس شخص کے پاس سونے کے کڑے پہنچنے تھے اُسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کشف بھی پہنچ چکا تھا۔پھر اس معجزے کا یہ بھی حصہ ہے کہ حضرت عمر کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ تحریک پیدا کر دی کہ وہ اُس صحابی کوسونے کے کڑے پہنائیں حالانکہ شریعت کے لحاظ سے مردوں کے لئے سونا پہنا ممنوع ہے۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کو پورا کرنا چاہتا تھا اس لئے آپ