خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 436
خلافة على منهاج النبوة ۴۳۶ جلد سوم پس اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا فقدان کسی خلیفہ کے نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کے نقص کی وجہ سے ہوتا ہے اور خلافت کا منا خلیفہ کے گنہگار ہونے کی دلیل نہیں بلکہ امت کے گنہگار ہونے کی دلیل ہوتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ صریح وعدہ ہے کہ وہ اُس وقت تک خلیفہ بناتا چلا جائے گا جب تک جماعت میں مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی اکثریت رہے گی۔جب اس میں فرق پڑ جائے گا اور اکثریت مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب چونکہ تم خود بد عمل ہو گئے ہو اس لئے میں اپنی نعمت تم سے چھین لیتا ہوں ( گو خدا چاہے تو بطور احسان ایک عرصہ تک پھر بھی جماعت میں خلفاء بھجواتا رہے ) پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ خراب ہو گیا ہے وہ بالفاظ دیگر اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عمل صالح سے محروم ہو چکی ہے کیونکہ خدا کا یہ وعدہ ہے کہ جب تک اُمت ایمان اور عمل صالح پر قائم رہے گی اس میں خلفا ء آتے رہیں گے اور جب وہ اس سے محروم ہو جائے گی تو خلفاء کا آنا بھی بند ہو جائے گا۔پس خلیفہ کے بگڑنے کا کوئی امکان نہیں ہاں اس بات کا ہر وقت امکان ہوسکتا ہے کہ جماعت کی اکثریت ایمان اور عمل صالح سے محروم نہ ہو جائے۔چوتھی علامت خلفاء کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اُن کے دینی احکام اور خیالات کو اللہ تعالیٰ دنیا میں پھیلائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے ولیمكنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ کہ اللہ تعالیٰ اُن کے دین کو تمکین دے گا اور باوجود مخالف حالات کے اُسے دنیا میں قائم کرے گا۔یہ ایک زبر دست ثبوت خلافت حقہ کی تائید میں ہے اور جب اس پر غور کیا جاتا ہے تو خلفاء کی صداقت پر خدا تعالیٰ کا یہ ایک بہت بڑا نشان نظر آتا ہے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں کوئی جتھا نہیں رکھتے تھے۔لیکن حضرت عثمانؓ اور حضرت علی رضی اللہ عنہا ایسے خاندانوں میں سے تھے جو عرب میں جتھے رکھتے تھے۔چنانچہ بنو عبد الشمس حضرت عثمان کے حق میں تھے اور بنو عبد المطلب حضرت علیؓ کے حق میں اور ان دونوں کو عرب میں بڑی قوت حاصل تھی۔جب خلافت میں تنزل واقع ہوا اور مسلمانوں کی اکثریت میں سے ایمان